Monday, September 14, 2015

عوامی منصوبے اور عوامی احساس ملکیت


شاملات کے لفظ اور حقیقت سے ہمارے پہاڑی علاقوں  اور دیہاتی علاقوں کے لوگ  واقف ہونگے ہی ، ان لوگوں کیلئے جو اس لفظ یا تصور سے واقف نہیں ہیں ، انکی معلومات کیلئے کہ یہ اس جگہ  کو کہا جاتا ہے جو کسی گاؤں یا پہاڑی علاقے یا قبیلے کی مشترکہ ملکیت ہوتی ہے ، یہ وہ زمین ، جنگل  چراگاہ  یا چشمہ وغیرہ ہوتی ہے جس پر اس ملحقہ گاؤں ، علاقے یا قبیلے کے تمام لوگوں کی بلا روک ٹوک رسائی اور وسائل پر دسترس و حق ہوتا ہے

اگر گاؤں ، علاقے یا قبیلے میں دو لوگوں کی اپنی ذاتی زمین یا دوسری ملکیت بارے کوئی لڑائی جھگڑا ہو اور ایک دوسرے کی زمین پر قبضہ بھی ہوجائے تو گاؤں والے عام طور پنچایت یا جرگہ کے ذریعہ اس کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا لوگ عمومی تھانہ کچہری والا راستہ اختیار کرتے ہیں ، اس طرح کے جھگڑے میں گاؤں یا پورا قبیلہ عام طور پرسوائے انتہائی قریبی لوگوں کے, کسی ایک بندے کا کھل کر ساتھ دینے کی بجائے  تھوڑا لا تعلق سا رہتا ہے,  
لیکن اگر گاؤں یا قبیلے کا کوئی بندہ یا دوسرے گاؤں یا قبیلے کے لوگ ، شاملات والی زمین ، جنگل ، چراگاہ یا چشمہ وغیرہ پر قبضہ جمانے کی کوشش کرے یا اسکو اپنی ذاتی ملکیت بنانے کی کوشش کرے یا اس میں خود ہی کسی تبدیلی کی کوشش کرے یا دوسرے لوگوں کی اس مشترکہ وسائل پر دسترس اور رسائی روکنے کی کوشش کرے تو پورا گاؤں یا قبیلہ اس کی مخالفت کرتا ہے اور خم ٹھونک کر مقابلے میں آ جاتا ہے، دلچسپ بات یہ ہوتی ہے کہ اس شاملات پر گاؤں یا قبیلے کے کسی ایک بندے کی کوئی واضح ملکیت یا قبضہ بھی نہیں ہوتا یا حصہ بخرہ کی نشاندھی بھی نہیں ہوتی

اصل بات اس سارے قصہ میں لفظ شاملات سے ہی واضح ہو جاتی ہے کہ" سارے کا سارا" گاؤں یا "پورے کا پورا " قبیلہ اس کی ملکیت اور ملکیت کے احساس میں شامل ہے اور اسکو سب "مشترکہ " اثاثہ سمجھتے ہیں ، سب کو اسکی ملکیت کا ناصرف احساس ہوتا ہے بلکہ سب کو اس میں شامل بھی کیا جاتا ہے اور اس شاملات کے معاملات میں اگر کوئی تبدیلی ، بہتری یا بڑھوتری کرنا مقصود ہوتی ہے تو اس فیصلے میں تمام کا تمام گاؤں یا قبیلہ شامل ہوتا ہے اور کسی کو بھی اس فیصلے سے لاعلم ، دور یا شرکت سے محروم نہیں رکھا جاتا . یہی وجہ ہے کہ سینکڑوں سال گزرنے کے باوجود ، آپ کو شاملات کے معاملات میں کم ہی جھگڑے دیکھنے یا سننے کو ملیں گے ، اگر شاملات بارے کوئی جھگڑا ہوتا بھی ہے تو وہیں ہوتا ہے جہان شاملات کے اصلی تصور کی نفی کی جاتی ہے یا اسکو بے حرمت کیا جاتا ہے

اس ساری  تمہید باندھنے کا مقصد ایک اہم مسئلہ کی طرف دھیان دلانا تھا جو کہ ہمارے معاشرے میں سیاسی تقسیم، نفرت اور سیاسی عصبیت کو بڑھاتی چلی جا رہی ہے اور لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے اچھے کاموں بارے بھی صرف نفرت ، کدورت ، بغض اور ناکامی کے جذبات ہی پیدا کرتی ہے  اور اصول شاملات کی نفی یا خلاف ورزی کرنے سے ایک بلا کی طرح بڑھتی چلی جا رہی ہے

میرا نکتہ یا دھیان اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ کیا وجہ ہے کسی بھی حکومت کا کوئی بھی اچھا منصوبہ یا کام ، سوائے اس حکومت کی اپنی سیاسی عصبیت کے، عام طور پر برا ، ناکام ، غیر معیاری یا غیر ضروری کیوں قرار پاتا ہے، 
کیوں سوائے اس حکومت اور اسکی سیاسی عصبیت کے . وہ منصوبہ ناکارہ یا رد قرار دیا جاتا ہے ، 
بات وہی ہے کہ منصوبہ کتنا ہی عوامی بھلائی اور انکی ضروریات کا کیوں نا ہوں ، وہ صرف "اپنا" منصوبہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، اس منصوبے کی منصوبہ بندی ، اس کے علاقے کے لوگوں پر اثرات ، اسکا ملک و قوم کو فائدہ ، نوک پلک ، اخراجات ، عملدرآمد بارے سب کو شامل نہیں کیا جاتا، یعنی شاملات والا کوئی 
تصور نہیں ہے

پاکستان میں کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ یا کام ، وہ یا تو ن لیگی منصوبہ ہوتا ہے ، یا انصافی منصوبہ ہوتا ہے ، یا پیپلز پارٹی منصوبہ ہوتا ہے ، یا مہاجر منصوبہ ہوتا ہے ، یا کسی دوسری سیاسی جماعت کا منصوبہ ، کوئی بھی منصوبہ قومی یا عوامی یا مشترکہ منصوبہ نہیں ہوتا یا رہنے نہیں دیا جاتا 

لوگوں کو اس منصوبے پر حق ملکیت کا کوئی احساس پیدا نہیں ہونے دیا جاتا،
 ان کو صرف یہ بتایا جاتا ہے "ہم" نے یہ منصوبہ آپکے بنایا ہے اور بس اسے قبول کرو، وہ منصوبہ کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کا منصوبہ رہتا ہیں وہ گاؤں میں دو بندوں کی لڑائی کا منصوبہ رہ جاتا ہے اور سارا ملک (گاؤں ) اس لڑائی سے لاتعلق رہتا ہے، اسی وجہ سے اگر کوئی منصوبہ ایک سیاسی جماعت یا حکومت شروع کرتی ہے اور اسے اپنے دور حکومت میں مکمل نہیں کر پاتی ، تو وہ منصوبہ اسکی حکومت کے ساتھ ہی ختم ہوجاتا ہے ، آپ کو ملک میں جا بجا ایسے منصوبے اور ان منصوبوں کی گرد و خاک میں اٹی ٹوٹی پھوٹی عمارتیں یا سڑکیں ملیں گیں

اگر آپ واقعی میں کسی عوامی بھلائی اور قومی ترقی کے منصوبے کی تکمیل کا خیال ذہن میں لئے بیٹھے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سب لوگ اس منصوبے کی دل وجان اور پوری توانائی سے حمایت و مدد کریں تو صرف اپنی سیاسی عصبیت کو ہی اس منصوبے کی منصوبہ بندی میں شریک نا کریں ، اس منصوبے کو شاملات کا معاملہ سمجھتے ہوئے تمام لوگوں کو شامل کریں تاکہ آپ کی حکومت کے جانے کے بعد بھی منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچے اور چلتا رہے اور عوام اس سے مستفید ہوتی رہے.

جب تک تمام عوام  کو معاملات میں ملکیت اور شمولیت کا احساس نہیں ہوتا یا احساس نہیں دلایا جاتا وہ کسی بھی ترقیاتی  منصوبے چاہے وہ انکی نسلوں تک کی بہتری اور فائدے کیلئے ہی کیوں نا ہو ، میں دلچسپی اور اسکی حمایت نہیں 
کرتے


برھمنیات   

Sunday, September 13, 2015

بلا مقابلہ انتخاب کی ابکائی

بلا مقابلہ انتخاب کی ابکائی 


جب بھی کسی بھی قسم یا سطح کے انتخابات کی خبریں ہم سنتے ، دیکھتے یا پڑھتے ہیں تو ہم ایک لفظ یا اصطلاح سے 
"اکثر اپنا واسطہ پاتے ہیں  ، اور وہ ہے "بلا مقابلہ انتخاب

 انتخابات محلے کی صفائی کمیٹی کے ہوں ، بازار کے تاجروں کی انجمن کے ہوں ، وکلاء یا کسی اور پیشے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی تنظیم کے ہوں ، کلرکوں کی انجمن کے ہوں ، اخبار فروش تنظیم کے ہوں ، صحافیوں اور قلمکاروں کی تنظیم کے ہوں ، کسانوں کی کسی تنظیم کے ہوں ، اساتذہ کی کسی تنظیم  کے ہوں ، کالج یا یونیورسٹی میں طلبہ کے نمائندوں کے ہوں ، کسی یونین کونسل کے ہوں، کسی کونسلر کے ہوں  ،کسی "سیاسی" جماعت کے اندرونی انتخابات ہوں ، انتخابات کسی نائب ناظم کے ہوں یا ناظم شہر کے ہوں ، صوبائی اسمبلی کی رکنیت کے ہوں قومی اسمبلی کی رکنیت کے یا سینیٹ کی رکنیت کے ہوں ، یہ بلا مقابلہ انتخاب کی اصطلاح  ایک چڑیل یا آسیب کے سائے کی طرح ہمیشہ سامنے موجود ہوتی ہے
جب بھی کسی بھی انتخابات میں کوئی شخص "بلا مقابلہ" "منتخب" ہوتا ہے تو اس کے حمایتی اسے اس شخص کی مقبولیت اور اپنے خیالات یا "نظریات"  کی مقبولیت کا پیمانہ بنا کر پیش کرتے ہیں اور اسی سانس میں اپنے "مخالفوں" کی عدم مقبولیت کا ٹھٹھا اور مذاق اڑاتے ہیں

بلا مقابلہ انتخابات کو اپنے موقف کی سچائی اور اپنے آپ کو حق پر ہونے کا پیمانہ بھی بنا کر پیش کیا جاتا ہے ، اسکو اپنے افکار کی صداقت و اصابت کی دلیل کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے

آئیے آج اس کریہہ الصورت، آمرانہ ، گھٹیا ، متکبرانہ . دوسروں کو نیچ سمجھنے والے، سوچ و بچار سے خالی، طبقاتی، بزدل ، میدان سے راہ فرار اختیار کرنے والے، دھوکہ دہی والے، حق انتخاب سے محروم کرنے والے بیانئے کا پوسٹ مارٹم یعنی تیا پانچہ کرتے ہیں

کسی بھی معاشرے میں خیالات و افکار میں بہتری ، ان خیالات و افکار پر سوالات اور ان کے دفاع میں مضمر ہوتی ہے ، اور یہ کام ان خیالات و افکار کو لوگوں کے سامنے پیش کرکے ، لوگوں کو انکی دعوت دیکر ، لوگوں کو ان کے بارے قائل کرکے اور لوگوں کو انکو قبول کرنے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے. ہر نظریہ  خیال یا فکر ، تمام انسانی مسائل کے حل کیلئے اپنا نقطہ نظر پیش کرتا ہے اور اس حل یا نقطہ نظر کو عملی طور پر نافذ کرنے کا ایک طریقہ کار بھی . اگر کوئی نظریہ یا فکر صرف چند لوگوں کے ذہنوں میں رہے اور اسے لوگوں کے سامنے پیش کرنے سے چھپایا جائے یا لوگوں کو اس کی جانچ یا پرکھ کا موقع نہ دیا جائے اور دھونس ، دھاندلی ،دھوکہ دہی، طاقت اور فریب  سے  کسی شخص کو انکا "بلا مقابلہ" نمائندہ  بنا دیا جائے تو یہ نا صرف لوگوں کی حق تلفی ہوتی ہے بلکہ لوگوں کو انکے "حق انتخاب " سے بزور طاقت محروم بھی کرنا ہوتا ہے

یہ لوگوں یعنی عوام کو اس بات سے محروم کرنا ہوتا ہے کہ وہ انکے نمائندے کی خیالات ، فکر اور پروگرام سے آگاہ و واقف  ہوں ، ، یہ عوام کو اس فکر ، خیالات اور پروگرام کی حقیقت جانچنے کی بحث و موقع سے محروم کرنا ہے کہ وہ اس بارے اپنی کوئی رائے دے سکیں یا اس کی حقیقت یا سچائی پر سوالات اٹھا سکیں ، یہ عوام کو بغیر کسی بنیاد یا اصول کے صرف اندھا اعتماد کرنے کی زبردستی کرنا ہے، یہ خود لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو ،اپنے افکار کو ، اپنے پروگرام کو پیش کرنے سے راہ فرار اختیار کرنا اور انتہا درجے کی بزدلی بھی دکھانا ہے ، یہ لوگوں کو بیوقوف ، کمتر اور جاہل بھی سمجھنا ہے کہ وہ اس قابل نہیں ہے کہ ان کو حق انتخاب دیا جائے تاکہ وہ کسی قسم کی تمیز کر کے اپنا نمائندہ چن سکیں

اس "بلا مقابلہ" انتخاب کے تصور کا ایک اور بھی پہلو ہے ، وہ یہ کہ اس کو ایک جائز و قانونی تحفظ دیا جاتا ہے ، اصل میں اشرافیہ نے عوام کے استحصال کے جو بیشمار قاعدے قانون ، طریقہ کار اور نظام بنائے ہوئے ہیں ، یہ بھی ان میں شامل ہے، ایک "قانونی" طریقہ کار بنایا گیا ہے کہ جب تک کوئی عام شخص ایک پیچیدہ طریقہ کار کو اختیار نا کرے اس کو یہ "حق"  ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے انکے نمائندے کے چنے جانے کے طور پر پیش کر سکے. نظام ہی یہ فیصلہ کرنے کا "اختیار" رکھتا ہے کہ کس شخص/اشخاص  کو لوگوں کے سامنے انکے نمائندے کے طور پر پیش کرنا ہے تاکہ  وہ انہی میں سے اپنا نمائندہ چن سکیں اور اسکے علاوہ انکو کوئی حق نہیں ہوگا کہ کسی اور کو اپنا نمائندہ چن سکیں. اگروہ  نظام نمائندہ بننے کیلئے شامل ہونے والے  تمام لوگوں میں ایک کو چھوڑ کر تمام کو رد  کر دے تو نظام کا "چنا" ہوا  شخص ان کا "منتخب" قرار دے دیا جائے گا

دیدہ دلیری اور ڈھٹائی دیکھئے کہ ایک شخص جس نے اپنے آپ کو عوام کے سامنے پیش بھی نہیں کیا محض نظام کے طریقہ کار کی بدولت "منتخب" قرار دے دیا جاتا ہے ، اس سے بڑھ کر ابکائی والی بات کیا ہوگی . اسی طرح عوام کے نمائندہ بننے کے دوسرے امیدوار جو اسکے مقابلہ سے دستبردار ہو جاتے ہیں ان سے بڑا بزدل اور بے غیرت کوئی نہیں ہوتا جو اپنے اس عمل سے عوام کو انکے حق انتخاب سے محروم  رکھنے کی سازش میں بالواسطہ شامل ہوتے ہیں . اگر کوئی محض اس وجہ سے مقابلے سے دستبردار ہو جائے کہ میں بری طرح ہار جاؤں گا تو یہ پرلے درجے کی پست ہمتی اور ڈرپوک پن ہے . اسکی بجائے ہمت دکھائیں اور لوگوں کو حق انتخاب دینے میں مدد گار بنیں

پاکستان میں جمہوری و نظریاتی ہونے کے بڑے بڑے  دعویدار  سیاسی کارکن ، صحافی ، دانشور ، مفکر ، بجائے اس فکری گھٹیا پن پر اعتراض کرنے کے ، اس متکبرانہ سوچ کو رد کرنے کے ، اس جنگلی قانون کو بدلنے یا اصلاح کرنے کے ، عوام کو انکے حق انتخاب سے محروم کرنے کی سازش کے خلاف آواز اٹھانے کے ، جب بھی کوئی "بلا مقابلہ منتخب"   ہوتا ہے تو اس شخص پر داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے ہیں ، اسکی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں ، اس کو دیوتا بنا کر پیش کرتے ہیں ، اسکو عوامی مقبولیت کا پیمانہ بنا کر پیش کرتے ہیں

صد افسوس ہے ایسی چھوٹی سوچ و فکر پر جو محض ایک طریقہ کار کی چالاکی اور دھونس سے عوام سے انکا حق انتخاب چھین لے ، اس سوچ اور ایک آمرانہ فسطائی سوچ و عمل میں کوئی فرق نہیں ہے اور اس سب کے باوجود جو اپنے آپ کو عوامی و جمہوری نمائندہ کہلواتا ہے اس سے بڑا دھوکہ باز کوئی نہیں ہے  


اس لئے اپنی ذاتی حیثیت میں ، سیاسی کارکن کے طور پر ، ایک تبصرہ نگار کے طور پر یا  ایک لکھاری کے طور پر اس ابکائی زدہ تصور اور فکر کی مذمت کیجئے اور اسکے خلاف آواز اٹھائیے ، یاد رکھیں کہ "بلا مقابلہ انتخاب" صرف ایک فکری و نظریاتی طور پر مردہ معاشرے اور قوم میں ہوتے ہیں 

برھمنیات 

Saturday, August 8, 2015

سیکولر اشرافیہ کی منافقت اور مولوی کا مقدمہ

چلیں جی ، آج اک اور سیکولر اور مولوی تعصب مخالف دوسرے الفاظ میں ملفوف اسلام مخالف بیانئے کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں ، تیار ہیں سارے :)
حسن نثار ، یاسر پیرزادہ ،اور ان جیسے کئی ہم نوا اکثر یہ بات کرتےہیں کہ مولوی کو عورت کی ننگی ایڑھی تو نظر آ جاتی ہے لیکن معاشرے میں موجود کرپشن، ملاوٹ ، لوٹ کھسوٹ ، دھوکہ دہی، طبقاتی اونچ نیچ وغیرہ وغیرہ نظر نہیں آتی اور ان بارے بات نہیں کرتا یا دھیان نہیں دیتا
اسی طرح یہ بیانیہ کہ مولوی کو معاشرے میں جسمانی فحاشی تو نظر آتی ہے لیکن معاشی ناانصافی کی فحاشی نظر نہیں آتی وغیرہ وغیرہ
آئیں اس بیانئے کے تضادات دیکھیں
کہنے والے ، مذھب اور سیاست کو مکمل علیحدہ رکھنے کے قائل ہیں مولوی کی دنیاوی معاملات میں مداخلت کے خلاف ہیں اور ہر وقت کی لفظی جگالی کرتے ہیں کہ مولویوں کو دنیاوی معاملات کا کیا پتا وہ تو کسی معاملے پر اکٹھےنہیں ہو سکتے وہ معاشرے میں تقسیم کےذمہ دار ہیں انکے پاس جدید مسائل کا حل نہیں
ایک طرف تو بنی سیکولران نے مولوی پر آغاز میں ہی اتنی بڑی چارج شیٹ لگا کر کٹہرے میں کھڑا کر دیا اور خود معصوم بن گئے کہ جیسے یہ سارے مسائل یعنی کرپشن، ملاوٹ ، لوٹ کھسوٹ ، دھوکہ دہی، جسمانی و جنسی زیادتیاں ، طبقاتی اونچ نیچ، نا انصافی مولوی کے پیدا کردہ ہیں یا اسکے ریاست و وسائل ریاست پر قبضہ  کی وجہ سےہیں، اور وہ ان سب کا اکلوتا ذمہ وار ہے. وہی حکومت پر قابض ہے،بیوروکریسی پر قابض، زمینوں پر قابض ہے، آرمی کے جرنیل بھی مولوی ہیں جیسے میرے محلے کی مسجد کا مولوی ISI کا چیف بھی ہے ، ساتھ والے محلے کی مسجد کا مولوی سیکریٹری خارجہ ہے، اسکا مولوی چھوٹا بھائی وزیر خزانہ ہے

 اب خود غور و فکر کیجئے کہ اس بیانئے میں کتنے تضادات ہیں اور اسکے پھیلانے والے مولوی کو کسی با اختیار جگہ پر دیکھنے کے کتنے حق میں ہیں جب آپ مولوی کو کسی با اختیار و طاقتور جگہ پر دیکھنے کے قائل تو کیا سخت مخالف ہوں تو پھر آپ مولوی سے ان موضوعات پر رائے دینے یا اس بارے بات   کرنے یا ان کا خاتمہ کرنے بارے کیوں کہتے ہو اور توقع کرتے ہو.
ایک طرف تو یہ کہ حکومتی معاملات کو مذھب کی بنا پر ہرگز نا چلایا جائے ، دوسری طرف مولوی سے توقع کہ نا صرف اس بارے رائے دے بلکہ معاشرہ بھی استوار کرے، بھائی لوگو ، حکومت ،عدلیہ ،پولیس ، قانون ، زمین، فوج ، سیاست سب کچھ آپ کے اختیار میں تعلیمی نصاب آپکے ہاتھ میں ، خزانے کی کنجیاں آپکے ہاتھ میں، بیرونی تعلقات و معاہدے آپکے ہاتھ میں، میڈیا آپکے ہاتھ ، انتظامیہ آپکے اختیار میں  ,معاشرے میں کرپشن، ملاوٹ ، لوٹ کھسوٹ ، دھوکہ دہی، جسمانی و جنسی زیادتیاں ، طبقاتی اونچ نیچ، نا انصافی کے ذمہ وار تو آپ ہیں ،اور آپ چاہتے ہیں کہ آپکو کوئی الزام نا دے آپکا سارا گند مولوی صاف کرے اور آپکے گند کی ذمہ داری بھی لے لے اور اسکے باوجود وہ آپ سے گالیاں بھی کھائے ، آپ تو واقعی میں مہان ہیں

توجناب جب آپ مولوی سے اصلاح معاشرہ اور کرپشن، ملاوٹ ، لوٹ کھسوٹ ، دھوکہ دہی، طبقاتی اونچ نیچ، نا انصافی بارے بات کی توقع کرتے ہیں تو اختیار بھی دیں ہے پھر اسکی معاشرے کے ہر پہلو میں مداخلت پراپنی چونچ بھی بند رکھیں ، اگر یہ قبول نہیں تو اس سےکوئی توقع نا رکھیں اسےاپنا کام کرنےدیں جیسے آپ مختلف معاملات پر اپنی رائے دینے کو اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں تو وہی حق ایک مولوی کو بھی ، اس سے یہ حق آپ چھین نہیں سکتے
 ہاں اگر وہ اپنی رائے سے لوگوں کو تشدد پر اکسا رہا ہے یا خود ان سب کاموم میں ملوث ہے تو قانون استعمال کیجئے لیکن آپ تو وہ بھی نہیں کریں گے کہ پیدائشی بزدل اور پھٹو ہیں
 اس ساری تمہید و بیان سے یہ مت سمجھا جائے کہ میں مولوی کی بلا مشروط حمایت میں تلا ہوا ہوں اور اس کے فکر و عمل میں کوئی عیب نہیں دیکھتا  میں مولوی کی ہرگز ہرگز بلا مشروط حمایت و وکالت نا تو کرتا ہوں اور نا ہی کروں گا لیکن ایک آئینہ دکھانا ضروری تھا کہ سب اختیار آپ کے ہاتھ میں اور آپ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکیں اور ساوی ساوتری بنیں اور خون میں لت پت لاشوں پر کھڑے ہو کر دعوی کریں کہ آپکے ہاتھ پر کوئی خون نہیں اور مولوی نے کسی کو تھپڑ ہی مارا ہو تو آپ اسکو راندہ درگاہ بنا دیں اصل میں آپکا بغض مولوی سے ہے بھی نہیں ، یہ بات آپ اچھی طرح جانتے ہیں لیکن عوام کو بیوقوف بنانا بھی ضروری ہے تو اپنی تمام حکومتی ، سیاسی ، انتظامی ، معاشی ناکامیوں، خصی پن  اور نامردی کا سارا الزام مولوی کو دے دو،
 آپ کا اصل غصہ تو اسلام کے ساتھ ہے ، آپکی نفس کی غلام سیکولر لبرل  تربیت چاہتی ہے کہ آپ سب کچھ لوٹ کھسوٹ لیں ، ظلم و ناانصافی کو قائم رکھیں جبکہ اسلام کا نفاذ آپکو یہ سب کرنے نہیں دے گا ، بزدل اتنے ہیں کہ کھل کر اسلام دشمنی کر نہیں سکتے . اسلام کو بدنام کرنے کیلئے ضیاء الحق جیسا اسلام کو دھوکہ دینے والا بھی آپکو قبول کہ پھر اسکے ذریعہ اسلام پر الزام لگانا آسان ، مولوی کو بھی کچھ جگہ اسی لئے دیتے ہیں کہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ اس پر ڈال سکیں
تو جناب آپ بتائیں پچھلے ستر سال میں آپ نے کیا معرکہ مارا ہے، کتنی تعلیم عام کی ہے ، کتنی صحت کی ضروریات عام کی ہیں، کتنا امن امان دیا ہے، معاشرے میں کتنا شعور عام کیا ہے ، عوام میں اپنے حقوق بارے آگاہی اور فرائض بارے کتنی ذمہ داری کا احساس پیدا کیا ہے، لوگوں میں غلط رویوں و کاموں بارے کتنی معلومات عام کی ہیں، شہری ذمہ داریوں بارے کتنی مہمات چلائی ہیں ، معاشرے میں ہر طرح کے تعصبات کو کم کرنے یا ختم کرنے بارے ریاست کی طاقت کو کو کتنا موثر انداز میں استمعال کیا ہے. معاشرے میں گھٹن و شدت پسندی کو کم کرنے کیلئے ریاستی سطح پر کیا تیر مارے ہیں
  آپ نے سوائے الفاظ سے کھیلنے، مولوی کا ٹھٹھا و مذاق اڑانے ، لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے علاوہ کیا کیا ہے . آپکی بیاض میں ہے کیا
چند جھوٹی سچی کہانیوں کو بنیاد بنا کر مولوی کو بدنام کیجئے لیکن آپکو کسی وڈیرے ،جاگیردار، کسی صنعتکار ، کسی میڈیا سیٹھ کے ہاتھوں جنسی زیادتیاں اور لٹی عصمتیں نظر نہیں آئیں گی، مدرسوں میں جکڑے طلباء اور وہاں کی جنسی زیادتیاں نظر آتی ہیں (جس کی سخت ترین مذمت کرتا ہوں) لیکن جکڑے ہاری ، مزارع اور نجی جیلیں اور معاشرے میں ہوتی بچوں اور خواتین کے ساتھ جنسی و جسمانی زیادتیاں نظر نہیں آتیں

میرا خیال ہے کافی تضاد دکھا دیا ہے جوکہ اصل مقصد تھا اور اب اس کا اختتام کرتا ہوں کہ آئندہ سے یک طرفہ الزمات اور جھوٹ بھولنے سے پہلے غور کر لیجئے گا

Monday, August 3, 2015

قومی سیاست کی بلدیاتی سوچ



#PMLN اور #PPP کی طرف سے بلدیاتی نظام کی اب تک کی مخالفت اور نافذ نا کرنے پرکچھ تجزیہ ذہن میں آیا ہے،جوابی تبصرہ سے پہلے پورا پڑھ لیجئے گا
قیام پاکستان سے لیکر اگلے 12-14 سال پاکستان کی سیاست کچھ حد تک نظریاتی تھی پاکستان کی سیاست 1960 کی دھائی سے بالکل غیر نظریاتی موڑ مڑ گئی اور اس غیر نظریاتی سیاست کا سب سے بڑا اثر سیاسی جماعتوں اور انکے ووٹ لینے کی بنیاد پر پڑا.
ایوب خان کے زمانے میں BD نظام نے عوامی نمائندوں کو اور انکی سوچ کو محض پرمٹ ، نالیاں اور گلیاں پکی کرنے کی حد تک محدود کر دیا. وہ عوامی نمائندے جنہوں نے پورے ملک کیلئے خارجہ ،معاشی ،تعلیمی معاشرتی ، انتظامی ، عسکری، حکمت عملی بنانی تھی ان کی سوچ اور عمل کی وسعت محلے کی حد تک ہی رہ گئی. نا صرف انکی بلکہ عوام کی ان نمائندوں سے توقعات بھی پہلے تو انکی نالیاں ، گلیاں ، سڑکیں ، سکول کی چار دیواری وغیرہ وغیرہ بنوانے تک محدود ہوئی اسکے بعد صرف رہ ہی یہ گئی کہ کون ہمارے یہ کام کرواتا ہے اور اسی بنیاد پر ہمارا ووٹ اسکو ملے گا. معاشرے میں اس سوچ کا پیدا ہونا فوجی، سیاسی اور بیوروکریسی اشرافیہ کیلئے ایک نعمت    ثابت ہوا اور انہوں نے بھی یہ جان لیا کہ عوام کی سیاسی سوچ کو گلی محلے اور نالیاں پکی کروانے تک محدود کرنے کے بے شمار سیاسی و سٹریٹجک فائدے ہیں . اس سوچ سے عوام کی فکری گہرائی و گیرائی صرف مقامی معاملات سے اوپر یا باہر کبھی نہیں جاتی جوکہ انکو بیوقوف بنانے کیلئے بہت ضروری ہے
بھٹو کے زمانے اور بعد میں ضیاء الحق کے زمانے میں اس سوچ نے پستی کی ایک مزید کھائی دیکھی، اس دور میں پیدا ہونے والی سیاسی قیادت نے بھی اس سوچ کو نا صرف مزید بڑھاوا دیا بلکہ ان کا سارا سیاسی فہم اور سیاسی فکر ہی اس سوچ پر پروان چڑھی کہ سیاست صرف گلی محلے کے ترقیاتی کام اور کچھ اور بڑے ترقیاتی کام کرنے کا نام ہے، انکے نزدیک چونکہ ووٹ صرف ترقیاتی کاموں سے ملتے ہیں اور ان ترقیاتی کاموں کیلئے معاشرے میں کسی بھی فکری و نظریاتی سوچ کا ہونا کچھ معنی نہیں رکھتا تو اسکا معاشرے میں پھیلاؤ یا جوت لگانا کار بیکار ہے .
اس سیاسی قیادت کے نزدیک اصل مقصد سیاسی طاقت و حکومت کا حصول ہے اور اسکا انکے نزدیک صرف ایک ہی طریقہ ہے وہ ہے، محلوں ، شہروں وغیرہ کے ترقیاتی کام ،
اب اگر پاکستان میں بلدیاتی نظام آ جائے تو یہ تمام ترقیاتی کام بلدیاتی اداروں اور ان میں منتخب شدہ نمائندوں کے ہاتھ میں چلے جائیں گے، یہ صورتحال کسی بھی ایسی "سیاسی " قیادت کیلئے ڈراونے خواب سے کم نہیں جس کے نزدیک سیاست صرف گلی محلے شہر کے ترقیاتی کام کا نام ہو.
انکی سوچ و فہم میں یہ بات آ ہی نہیں سکتی کہ سیاست ، سیاسی طاقت اور حکومت میں آنے کیلئے کچھ نظریاتی و فکری بنیاد بھی ہوتی ہے اور اسکی بنیاد پر قومی و ملکی حکمت عملیاں بنائی جاتی ہیں ، قوم و ملک کی فکری و نظریاتی تعمیر ہوتی ہے اور وہ اسکے ذمہ دار ہوتے ہیں، معاشرے کو ہر طرح کے فکری نظریاتی ،جغرافیائی خطرات سے بچانا ہوتا ہے ، شدت پسندی اور گھٹن کا قلع قمہ کرنا ہوتا ہے . لیکن موجودہ سیاسی قیادت تو صرف اینٹ گارے کی سوچ سے باہر ہی نہیں نکل سکتی کہ انکے نزدیک اگر قومی سطح کی سیاست اور سیاستدانوں سے گلی محلے شہر کا ترقیاتی کام لے لیا گیا تو وہ کریں گے کیا،
بلدیاتی نظام کے بارے ہر طرح کی رکاوٹ ، ہچکچاہٹ ، کے پیچھے اصل میں یہ سوچ ہے. آپ بلدیاتی نظام کو نافذ نا کرنے بارے جتنی مرضی سیلاب یا دوسری رکاوٹوں کی دلیلیں دے لیں ، جتنی مرضی تاویلیں لے آئیں کہ حلقہ بندیاں نہیں ہوئیں، فلاں مسئلہ ہے یا ڈھمکاں مسئلہ ہے ، سب آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے ،
اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ کی سیاست اور سیاسی فکری و نظریاتی گہرائی و گیرائی صرف گلی محلے کی نالیاں اور سڑکیں پکی کرنے تک ہے اور آپ اس ذہنی حصار سے باہر نکل نہیں سکتے،
موجودہ سیاسی قیادت کا ترقیاتی کاموں کی بنیاد پر سیاست سے تعلق والا معاملہ ، بندریا اور اسکے مرے ہوئے بچے کو سینے سے چمٹائے رکھے جانے والا ہے ، جب تک کوئی اس بندریا کو یقین نہیں دلا دیتا کہ بچہ مر چکا ہے اور بدبو مار رہا ہے وہ بچے کو نہیں چھوڑے گی ، یہی معاملہ ہمارے #PMLN اور #PPP کی قومی سیاسی قیادت کے ساتھ ہے کہ ترقیاتی کاموں کے مرے ہوئے بچے کو سینے سے لگائے سڑکوں ، پلوں ، نالیوں کی تعمیر میں مصروف ہیں
 #PPP یا #PMLN کی طرف سے کسی واضح خارجہ ، معاشی ، معاشرتی ، تعلیمی، انتظامی ، عسکری وغیرہ حکمت عملی پیدا نا کرنے کے پیچھے بھی یہی وجہ ہے محض ترقیاتی کاموں کی سیاست سے ہمارے قومی سیاستدانوں میں فوج کی سیاست میں مداخلت کو روکنے کی صلاحیت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے کہ وہ اپنا سارا وقت ، توانائیاں اور سوچ بچار ان منصوبوں کے آغاز اور انکی مانیٹرنگ میں الجھے رہتے ہیں.
خدا را ، اپنے آپ کو قومی سطح کا سیاسی رہنما صرف سمجھئے ہی نہیں ، بن کر بھی دکھائیے اور اپنی سیاسی سوچ ، فکر و فہم کو وسیع کیجئے اور گلی محلے شہر کے ترقیاتی کاموں کو بلدیاتی نظام و اداروں کے حوالے کر کے قومی سطح پر سیاسی طاقت اور حکومت میں آنے کا نیا بیانیہ دیجئے اور صحیح فکری و نظریاتی سیاسی سوچ کے معمار بنئیے

Thursday, June 11, 2015

ذات برادری اور قبیلے کا گھٹیا فخر و تکبر

یہ کافی پرانی بات ہے ، میں انگلینڈ میں تعلیم کے سلسلے میں گیا ہوا تھا اور خرچہ پورا کرنے کیلئے ایک پاکستانی ریسٹورانٹ میں جز وقتی نوکری کیا کرتا تھا ، وہاں پر ایک کشمیری نژاد برطانوی صاحب بھی کام کرتے تھے. ان صاحب کو اپنے نام کے ساتھ راجہ کے دم چھلے کا بڑا فخر و غرور تھا.اور اٹھتے بیٹھتے ہر ایک کو اس دم چھلے سے آگاہ کرنا اپنا مقصد حیات سمجھتے تھے  ایک دن اپنی ترنگ میں فرمانے لگے کہ

اسان راجے ہونٹرے آن  تے اساں ساریاں تو اچے ہونٹرے آں

مجھے شرارت سوجھی اور اس بیہودہ بیان پر انکو پکا کرنے کیلئے کہا کہ واقعی آپ تمام لوگوں سے اونچے ہوتے ہیں تو موصوف نے بڑی نخوت سے کہا کہ ہاں ہم تمام لوگوں سے اونچے ہوتے ہیں ، اسپر میں نے ان سے کہا کہ بڑی گڑبڑ ہو گئی ہے کہ آپ راجہ لوگ تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اونچے ہو گئے ہیں کہ وہ تو راجہ نہیں تھے ، اسپر ان صاحب کی حالت دیدنی تھی اور ریسٹورنٹ میں باقی تمام کام کرنے والوں نے انکو خوب لعن طعن کی  

اسی طرح ایک اور محفل میں بیٹھے تھے کہ ایک صاحب کو اپنی برادری پر بڑا ناز اور تکبر تھا اور انکے نزدیک وہ جیسے خدا کی اولاد ہوں والا معاملہ تھا ان صاحب کے غبارے سے حسب نسب کی گندی ہوا نکالنے کیلئے  میں نے ان سے پوچھا کہ وہ کتنے بھائی ہیں ، فرمایا کہ ہم پانچ بھائی ہیں ، میں نے کہا کہ یعنی آپ تو اس برادری سے ہوئے جس پر تکبر کرکے نڈھال ہیں ، آپکا ایک بھائی فلاں برادری سے ہوا ، دوسرا  بھائی فلاں ذات سے ہوا ، تیسرے  بھائی کی ذات فلاں ہوئی اور چوتھا  بھائی فلاں برادری سے ہوا ، اسپر غصے سے بولے کہ کیا بکواس کر رہے ہیں ، ہم سب ایک ہی باپ کی اولاد  ہیں اور ایک ہی برادری سے تعلق رکھتے ہیں ، ہم میں ذات برادری کوئی فرق نہیں ہے

اسپر میں نے کہا کہ ہم سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم علیہ السلام ہم سب کے باپ ہیں ، تو آپ نے اس باپ کی اولاد کے حسب نسب میں کیسے فرق ڈال دیا . آدم کی اولاد تو ایک باپ کی اولاد ہونے کے ناطے برابر ہے ، ہاں اگر آپ آدم کی اولاد سے نہیں ہیں تو اور بات ہے ، اس پر وہ صاحب اپنا سا منہہ لے کر رہ گئے


اس موضوع پر تفصیلی گفتگو توانشااللہ  آنے والے بلاگ میں ہوگی ، تب تک اس ذات پات کے تصور کی بے ہودگی پر غوروفکر کیجئے 

Wednesday, June 10, 2015

اسلام اور اخلاق کی بحث


جب بھی اسلام میں اخلاق کی اہمیت کی بات ہوتی ہے تو ہمیشہ حدیث پاک کا حوالہ دیا جاتا ہے

آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
بعثت لا تمم حسن الاخلاق (مشکوة)
مجھے حسن اخلاق کی تکمیل کیلئے بھیجا گیا ہے“۔
بعثت لاتمم صالح الاخلاق(مستدرک حاکم)
مجھے صالح اخلاق کی تکمیل کیلئے مبعوث کیا گیا
اس موضوع پر احادیث تو اور بھی ہیں لیکن مقصود تحصیل حدیث نہیں ہے

ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں یہ بات عام سنتے ہیں کہ اخلاق کی بہت اہمیت ہے ، انسان کو اچھے اخلاق والا ہونا چاہئے ، اگر اخلاق نہیں تو کچھ بھی نہیں ، آپ چاہے نماز روزے والے ہوں لیکن اگر آپ کے اخلاق اچھے نہیں ہیں تو کچھ بھی نہیں ہے وغیرہ وغیرہ 

اسکے علاوہ  اکثر یہ فقرہ سننے کو ملتا ہے کہ انسان ہونا اصل بات ہے اور ہمیں انسانیت کی فکر و قدر کرنی چاہئے ،

ایک اہم مغالطہ جو آجکل لوگوں اور خاص طور پر مسلمانوں میں پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اخلاق ، اخلاقیات اور انسانی قدروں اور اسلامی احکامات کے درمیان شائد کوئی تفریق یا تقسیم پائی جاتی ہے
گویا کہ اسلام کے احکامات انسانوں کیلئے نہیں بلکہ کسی غیر انسانی مخلوق کیلئے آئے ہیں

سب سے پہلے تو آپ سب کیلئے ایک ششدر کرنے والا بیان
اسلام میں اخلاقیات بطور مجرد موضوع کا کوئی وجود نہیں ہے

اسکی وضاحت کیلئے بعد میں آوں گا تب تک آپ اس بیان کی جہتوں پر خود بھی غور کریں

سب سے پہلے تو یہ کہ اس بارے سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ  اخلاق اور انسانیت ہے کیا ، اس کا وجود اسکی غرض و غایت کہاں سے آئی ، اسکا وجود،  اسکی کیفیت ہے کیا، عام فہم اخلاقیات کا متضاد بد اخلاقی ہے یا کوئی اور عمل

کیا اخلاقیات مطلق ہوتی ہیں ، کیا اخلاقیات بدل بھی جاتی ہیں
کیا اس کا تعلق معاشروں کی ترقی سے ہے ، کیا ان میں بھی ارتقا ممکن ہے یا ہوتا رہتا ہے
کیا اخلاق محض انفرادی کردار کا نام ہے یا معاشرے کا اجتماعی اخلاقی کردار بھی ہوتا ہے
اخلاقیات کی حدود و قیود کون قائم  کرتا ہے یا کرے گا . کیا ان کا تعلق کسی فائدے یا نقصان سے ہوتا ہے
کیا ایک معاشرے کی اخلاقیات دوسرے معاشرے سے بہتر ہوتی ہیں
کیا اخلاقیات کا تعلق معاش سے ہوتا ہے کہ معاش کی بہتری یا ابتری سے ان میں بھی اتار چڑھاؤ آ جاتا ہے
کیا معاشرے کے مختلف طبقات کی اخلاقیات کے معیار مختلف ہوتے ہیں یا ہونے چاھئیے


ان سب سوالوں کے ساتھ ہمیں یہ بھی پرکھنا اور دیکھنا ہے کہ عمل کی کیا قدر ہوتی ہے اور کوئی بھی عمل کس قدر کو حاصل کرنے کیلئے کیا جاتا ہے یعنی
What is the actual value of an action and what value is sought by carrying out that action?

اب اگر دیکھا اور پرکھا جائے کہ کسی عمل کی اخلاقی قدر کیا ہوتی ہے اور کیا یہ قدر کوئی اہمیت رکھتی ہے ، کیا اسکے اس عمل کو اختیار کرنے والے پر دوررس اثرات اور فائدے ہوتے ہیں  کیا وہ فائدہ حقیقی ہے یا مصنوعی

کسی عمل میں اخلاقی قدر ڈھونڈھتے ہوئے اس قول کی کتنی اہمیت ہے کہ
End justify the means
حاصل کردہ نتیجہ ، اسباب کا جواز مہیا کر دیتا ہے

ان سب سے بڑھ کر یہ کہ اخلاقی قدر جو منشاء و مقصود ہے وہ کونسی انسانی جبلت کی تسکین کیلئے ہے یا اس سے کونسا مادی مرئی یا غیر مرئی فائدہ حاصل ہوتا ہے

یعنی ایک ڈوبتے ہوئے شخص کو بچانا یا کسی سے خوشگوار لہجے میں بات کرنے کا عمل کونسی قدر حاصل کرنے کیلئے ، کیا یہ اس لئے کہ اس سے معاشرے میں یا لوگوں میں ہماری عزت و منزلت بڑھتی ہے جس کا ہمیں بعد میں کسی وقت معاشی یا سیاسی فائدہ حاصل ہوگا یا ہمیں کوئی ذاتی اندرونی خوشی محسوس ہوتی ہیں

پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ ایسا رویہ یا عمل مطلق ہے یعنی ہم اپنے جانی دشمن کے ساتھ بھی ایسا ہی رویہ رکھیں گے یعنی اسکی جان بچائیں گے کہ جان بچانے کے عمل سے ہمیں اندرونی خوشی ملتی ہے   چاہے جان بچ جانے کے بعد وہ ہمیں تہس نہس ہی کیوں نا کردے.کیا ہمارے اس "اخلاقی عمل " کی تحسین ہوگی یا ہمیں بیوقوف سمجھا جائے گا . اسی طرح جس بات کو اخلاقی الجھن یا کشمکش کہا جاتا ہے ، کیا وہ مجرد اخلاقی قدر کے حصول کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہے

اگر ہم اپنے گرد و نواح میں حقیقت واقعہ کی بنیاد پر فیصلہ کریں تو مجرد اخلاقی قدر کا حصول محض ذاتی یا اجتماعی فائدہ یا نقصان کی بنا پر ہوگا اسکی کوئی مطلق قدر نہیں ہوگی اور یہی وجہ ہے کہ ایک طاقتور قوم اپنی اخلاقی اقدار کواپنی قوم کیلئے فائدہ یا نقصان کی بنا پر دوسری قوم سے برتر گردانتی ہے اور اپنی اخلاقی اقدار کے نفاذ پر اصرار کرتی ہے اور اپنی اخلاقی اقدار کے علاوہ دوسری اخلاقی اقدار کو بنیادی ، وحشیانہ ، قابل نفرت، اور جڑ سے اکھاڑنے والی سمجھتی ہے،اور وقت پڑنے پر اپنی ہی بنائی ہوئی اخلاقی قدروں کو توڑنے سے بھی دریغ نہیں کرتی اور منافقت کے لقب کی بھی پرواہ نہیں کرتی  وہ یہ نہیں دیکھتی کہ اخلاقیات میں قدر کا حصول   ذاتی فائدے یا نقصان کیلئے نہیں بلکہ نسل انسانی کی بقاء اور انسانی معاشروں میں نظم و ضبط ، خوش ترتیبی اور تناسب کو برقرار رکھنے کیلئے ہے

اسلام میں عمل اور اس میں قدر کا حصول ایک بالکل مختلف معاملہ ہے ، اسلام میں عمل کسی بھی ذاتی یا اجتماعی فائدے اور دشمن کو نقصان پہنچنے کی نیت اور قدر کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا. اسلام میں عمل اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضا کیلئے کیا جاتا ہے اور اللہ عزوجل کا حکم سمجھ کر کیا جاتا ہے ، اب اس عمل کے دوران حاصل ہونے والا ذاتی یا اجتماعی فائدہ ایک "ضمنی پھل" ہوتا ہے جو حاصل ہوتا ہےنا کہ اصل غایت .

 یعنی ہم جب کسی سے خوش خلقی سے بولتے ہیں یا والدین سے حسن سلوک کرتے ہیں یا ہمسائے یا اجنبی کی مدد کرتے ہیں ، کسی ڈوبتے ہوئے کو بچاتے ہیں تو ہم اسکو حکم ربی کی بنیاد پر کرتے ہیں ناکہ ان اعمال میں موجود فائدے ، راحت یا معاشی و معاشرتی قدر و منزلت میں اضافے کیلئے

دوسرے الفاظ میں اسلام میں مجرد اخلاقیات کا یا انسانیت کا کوئی وجود نہیں ہے ، اسلام میں اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں جن پر ہم عمل کرتے ہیں اور کسی انسان کی خوشی یا راحت کے حصول کی بجائے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مطمع نظر ہوتی ہے
یہی وہ بنیادی فرق ہے کہ غیر اسلام کو اسلام کے احکامات جامد لگتے ہیں کہ ان میں کسی کا کوئی ذاتی فائدہ موجود نہیں ہے اور ناہی ان میں کسی ایک خاص وقت کیلئے فوری فائدہ ممکن ہے اور باقی زمانے بھلا نقصان اٹھاتے پھریں 

لوگوں میں اخلاق بارے سب سے بڑا مغالطہ جو پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اخلاق محض اچھی طرح بولنے کو کہتے ہیں اور اسکا اس سے کوئی غرض نہیں کہ اصل میں کہا کیا جا رہا ہے ، یعنی اگر کوئی "خوش اخلاقی " سے فسق و فجور کی دعوت دے رہا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ، اسی طرح کا عام مغالطہ جو  لوگوں میں پایا جاتا ہے کہ فلاں بندہ بہت ملنسار ہے بہت خیال رکھنے والا ہے ہمیں اسکے ذریعہ آمدن سے کیا لینا دینا.

اخلاق کا جو تصور عام پایا جاتا ہے یا پھیلایا گیا ہے اس میں صرف ذاتی کردار کے چند اعمال و  پہلوؤں کا ہی احاطہ کیا گیا ہے اور ان سے مختلف یا متصادم اعمال کو اخلاق کے دائرے سے نکال دیا گیا ہے. ہم اخلاق کو جب جانچتے ہیں تو ہم صرف اٹھنے بیٹھنے ، کھانے پینے ، لباس اور بولنے کے اعمال پر ہی  اچھے برے اخلاق کا فیصلہ کرتے ہیں، نا صرف یہ بلکہ ایک طاقتور اور فاتح معاشرے کے ان اعمال کو اخلاق کا پیمانہ بھی مقرر کر لیا جاتا ہے، ہم چھری کانٹے سے کھانے کو مہذب اور ہاتھ سے کھانے کو غیر اخلاقی سمجھتے ہیں ، ہم زمین پر بیٹھنے کو بد اخلاقی اور صوفے پر بیٹھنے کو اخلاق کا مظاہرہ سمجھتے ہیں ، ہم دھوتی یا شلوار قمیض پہننے کو غیر مہذب اور پینٹ شرٹ  کو اچھے اخلاق میں گردانتے ہیں، ہم غلط بات پر کسی کو ٹوکنے کو بد اخلاقی اور فحش گوئی کی محفل میں  ملکر ہنسنے کو اخلاق  وغیرہ وغیرہ ، یعنی اخلاق کو ہم نے چند اعمال کے لبادے میں لپیٹ کر رکھ دیا ہے

عام فہم اخلاقیات میں اگر کوئی شخص بولنے میں اچھا ہے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اور ہمسائیوں کے ساتھ اچھا ہے تو چاہے وہ قاتل ہی کیوں نہیں ہے وہ اچھے اخلاق والا ہے

اسی طرح ہم اخلاقیات کو تقسیم بھی کیے ہوئے ہیں . ہمارے نزدیک محلے میں شادی بیاہ پر  رات بھر اونچی آواز میں گانا بجانا تو قابل مذمت اور غیر اخلاقی حرکت ہے لیکن محلے کی مسجد سے محفل ذکر ، یا محفل میلاد یا فضائل صحابہ رض کے نام پر اونچی آواز میں صوتی عذاب عین  ثواب کا کام ہے

ہم اونچی آواز میں بولنے یا گالی گلوچ کو تو سخت بد اخلاقی سمجھتے ہیں لیکن شادی بیاہ ، یا فوتیدگی یا کسی علمی ،مذہبی یا کسی دوسری مجلس کیلئے سڑک بند کرنے کو کبھی بد اخلاقی نہیں سمجھتے باوجود اسکے کہ اسلام میں راستہ بند کرنے کی سخت ممانعت ہے

ہم خوش خلقی کو تو بہت اہمیت دیتے ہیں لیکن اسی خوش خلقی کے ساتھ کوئی جھوٹ بول رہا ہو یا وعدہ خلافی کر رہا ہو تو ہم اسے ایک معمول کی بات سمجھ لیتے ہیں

بد اخلاقی محض بدزبانی ہی نہیں ہے بلکہ تکبر ، غرور ، غلط بیانی اور خاص طور پر اسلام کے نام پر یا مسلمانوں کے حقوق کی خاطر غلط بیانی بھی برے اخلاق ہیں

اسی طرح ہم اخلاق کو محض ایک انفرادی معاملہ سمجھتے ہیں اور اسکو قومی سطح کا معاملہ نہیں سمجھتے ، مثال کے طور پر اگر کوئی فرد آٹھ دس بندے ہتھوڑے یا تلوار سے قتل کردے تو ہمارے نزدیک وہ انتہائی غیر اخلاقی حرکت ہوتی ہے لیکن اگر کوئی ملک دوسرے ملک پر چڑھ دوڑے اور جدید بم برسا کر بیس تیس لاکھ بندے مار دے تو ہم اسکو جنگ میں تو ایسا ہوتا ہی ہے یا اجتماعی نقصان کا خوش نما لباس پہنا دیتے ہیں
اگر کوئی فرد دس بیس لوگوں کو لوٹ لے تو وہ بدعنوان ، بد اخلاق لیکن اگر کوئی بینک  بنا کر یا حکومت میں آکر اربوں کھربوں لوٹ لے تو وہ بد اخلاق ہرگز نہیں ہے


بحث کو سمیٹے ہوئے اس بات کا اعادہ کہ اسلام میں اخلاقیات  ایک علیحدہ وجود کے طور پر کوئی وجود نہیں رکھتیں اور نا ہی اسلام اخلاقی قدروں  کے حصول کیلئے علیحدہ علیحدہ نظام رکھتا ہے جو کہ باقی احکام سے علیحدہ ہو ، یعنی سیاسی اخلاقیات ، سماجی اخلاقیات ، مذہبی اخلاقیات ، معاشی اخلاقیات ، خارجہ اخلاقیات ، تعلیمی اخلاقیات ، حکومتی اخلاقیات گھر کی اخلاقیات، باہر کی اخلاقیات  ، بازارکی اخلاقیات ، گاہک کی اخلاقیات ، تاجر کی اخلاقیات ، وغیرہ وغیرہ ، اسلام میں احکام کو علیحدہ علیحدہ کرکے بیان نہیں کیا گیا یا جاتا اور نا ہی مختلف طبقات کیلئے علیحدہ علیحدہ اخلاقی معیار مقرر کیے گئے ہیں یا انکی گنجایش رکھی گئی ہے، اسلام میں اگر قربت دار کے ساتھ خوش اسلوبی کے ساتھ پیش آنے کا حکم ہے تو وہی حکم اجنبی اور غیر شخص کیلئے بھی ہے، مختلف عھدوں کیلئے مختلف اخلاقیات کا کوئی تصور نہیں ہے 

اسلام نے آپسی ، سماجی میل جول ، مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے درمیان سماجی میل جول اور دوسری قوموں کے ساتھ مسلمان بطور قوم کے،  میل جول بارے احکامات بتادیے ہیں ، ان احکامات پر عمل اس لئے نہیں کہ لوگ ہمیں اچھا سمجھیں یا گردانیں،  اس لئے نہیں کہ ہماری انا کی تسکین ہو ، اس لئے نہیں کہ ہم دوسروں  کے اوپر اپنے اچھے اخلاق کا رعب جھاڑ سکیں یا اپنی اخلاقی برتری کا سکہ جما سکیں  ، بلکہ اس لئے کہ وہ اللہ کا حکم ہیں اور ان پر عمل کرنا لازم اب اس حکم کو اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کرنے میں لوگ بھلے اس کو اپنی اخلاقی قدروں کے اعتبار سے بد اخلاقی سمجھیں ، یعنی اگر اللہ کا حکم ہے کہ فحش کاموں سے دور رہو تو اگر کسی محفل میں فحش گفتگو  جاری ہے تو محض اس ڈر سے کہ اگر میں نے منع کیا یا  اگر میں اٹھ کر چلا گیا تو لوگ اسے آداب محفل کے خلاف سمجھیں گے ، چپ چاپ بیٹھنا اللہ کے قانون کی خلاف ورزی ہے نا کہ اچھے اخلاق


اور اس موضوع یعنی اخلاق کو اس پہلو سے دیکھنا چاہئے کہ لوگوں اور اپنے ماحول کے ساتھ  اچھے میل جول کیلئے اللہ تعالیٰ کے احکامات کیا ہے اور انکی خلاف ورزی محض بد اخلاقی نہیں ، اللہ عزوجل کی حکم عدولی اور اسکی ناراضگی کو دعوت دینا ہے   یعنی اسلام میں ہر عمل ، اخلاق و انسانیت والا عمل ہے اگر اللہ کا حکم اور خوشنودی کو مد نظر رکھ کر کیا جائے لیکن  اگر انسانوں کی خوشنودی اور ذاتی فائدے کو مدنظر رکھ کر کیا جائے تو نری منافقت اور ریا کاری