Saturday, April 9, 2016

آف شور کمپنیاں علامت ہیں اصل بیماری نہیں-- حصہ دوئم


اس قصے کو یہیں چھوڑتے ہوئے اب آتے ہیں آف شور بینک اور اف شور کمپنیوں کی طرف
جب فرانس میں انقلاب آیا اور جاگیرداروں و سرمایہ داروں کے خلاف ان کی لوٹ کھسوٹ پر عوام کا غصہ عروج پر پہنچ گیا اور انہوں نے  امراء کے طبقہ کو گاجر مولی کی طرح کاٹنا شروع کردیا تو ان سرمایہ داروں کو فکر لاحق ہوئی کہ کیسے اپنا مستقبل محفوظ بنائیں اور کیسے اپنا مالیاتی تسلط برقرار رکھیں. جب نپولین کو شکست ہوگئی تو فرانس کے امراء کو مزید فکر لاحق ہوگئی کہ انکے بڑھتے ہوئے سرمائے کا کیا بنے گا، اس زمانے میں ویانا اور چینل آئی لینڈز میں موجود سرمایہ داروں نے چھوٹے پیمانے پر بینک بنانے شروع کردئیے اور اور یورپ کے تمام بڑے سرمایہ داروں کو دعوت دینا شروع کردی کہ اپنے سرمائے کے تحفظ کیلئے اپنا پیسہ ، بانڈز/سٹاک اور کمپنیاں وہاں منتقل کردیں جہاں انکو مکمل راز داری مہیا کی جائے گی اور انکا سرمایہ ہر حال میں محفوظ رہے گا

یہ وہی زمانہ تھا جب یورپی سامراجیت نے دنیا بھر میں اپنے سامراجی پنجے پوری طرح گاڑ لئے تھے اور شمالی و جنوبی امریکہ اور افریقہ و ایشیا پر قبضے بھی مکمل کرلئے تھے. ان علاقوں پر لوٹ مار والے  قبضے کی وجہ سے دولت کی عام ریل پیل ہوگئی اور بے شمار لوگ طبقہ امراء میں شامل ہونا شروع ہوگئے، اس زمانے میں صنعتی انقلاب کی وجہ سے جاگیرداری کو زوال آنا شروع ہوگیا اورسٹاک بروکر ، بینکاروں، سٹاک کمپنیوں اور صنعتکاروں کے روپ میں سرمایہ داروں کا ایک نیا طبقہ وجود میں آیا، یہ نیا طبقہ بھی اس پرانے محدود سرمایہ دار طبقے کا جلد ہی حصہ بن گیا جو کہ بینک آف انگلینڈ اور اسی قبیل کے دوسرے بینکوں کا مالک تھا اور یورپ کے ملکوں کی معاشیات پر قابض
اس محدود طبقے کے پاس دولت ، اثر رسوخ اور اختیار کی اتنی بھرمار ہوگئی تھی کہ عوام میں ایک بار پھر سخت قسم کی نفرت اور بغاوت پھیلنے کے اثار نظر آنے لگے. صنعتی انقلاب کی بدولت عوام میں علم و شعور بڑھا تو اس سرمایہ دار طبقہ کی دولت پر ٹیکس 
لگانے اور کچھ صورتوں میں ان پر قبضہ کرنے کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں

چونکہ لاطینی امریکہ کے ممالک پر یورپی ملکوں کا قبضہ تھا اور اس زمانے میں تجارت اور قدرتی وسائل سے زیادہ تر پیسہ انہی ممالک سے آرہا تھا تو سرمایہ دار طبقہ نے ایک بار پھر اپنے اثر ورسوخ اور سرمائے کو استعمال کرتے ہوئے ، چھوٹے چھوٹے جزیروں پر کمپنیاں اور بینک قائم کرنے کے اجازت نامے حاصل کرلئے اور نا صرف اجازت نامے بلکہ اس بات کی قانون سازی بھی کروا لی کہ وہاں پر موجود کمپنیوں کو ٹیکس ، سرمائے کی راز داری اور تحفظ  کی ضمانت بھی ہوگی اور جو جو ممالک و جزیرے جس کسی یورپی استعماری طاقت کے کنٹرول میں ہیں انکو اس استعماری طاقت کی تمام فوجی طاقت کا تحفظ بھی ہوگا. یعنی ایک بار پھر وہی سرمایہ دار جو پیسے کی رسد و طلب کے مالک بنے ہوئے تھے اپنے سرمائے ، اثر ورسوخ و اختیار کو بچانے میں کامیاب ہو گئے ، حضرت اقبال نے 
شائد ایسے ہی موقع کیلئے اپنا یہ شعر کہا تھا کہ

مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات 

اور یوں ، برٹش ورجن آئی لینڈ ، کیمن آئی لینڈ ، چینل آئی لینڈ ، بہاماز، پانامہ ، ماریشس، بیلیز، برمودا ، قبرص، وغیرہ وغیرہ کی ٹیکس و سرمایہ بچانے کے محفوظ ٹھکانے وجود میں آگئے . ان محفوظ ٹھکانوں کی مکمل فہرست آپ انٹرنیٹ سے حاصل کر سکتے ہیں.
روس میں ١٩١٧ میں آنے والے بالشویک انقلاب ، پہلی و دوسری جنگ عظیم اور مغربی و

روسی بلاکس کی سرد جنگ میں سرمائے کے ان محفوظ ٹھکانوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی اور امریکی و مغربی یورپی سرمایہ داروں نے اپنے سرمائے کو عام لوگوں کی طرح ان پر لگنے والے بھاری ٹیکسوں سے بچانے کیلئے نت نئی چالوں ، کمپنیوں کے ڈھانچوں ، بینکوں کے ڈھانچوں اور قانون سازی سے اپنے سرمائے کو کاغذوں کی حد تک ان محفوظ پناہ گاہوں جنکو لوگ آج آف شور کمپنیاں یا آف شور بینک کہتے ہیں ، میں منتقل کردیا

اس سارے قصے میں جو اصل بات غور کرنے کی اور سوالات جو اٹھانے والے ہیں انکی
 طرف کبھی بھی لوگوں کا دھیان نہیں جانے دیا جاتا. سب سے پہلی بات تو یہ کہ دنیا میں اسوقت جو نظام معیشت تسلط رکھے ہوئے ہیں وہ ہے نظام سرمایہ داری، اور اس نظام کو لانے والے ، نافذ کرنے والے ، تحفظ دینے والے اور پھیلانے والے وہی سرمایہ دار ہیں جنہوں نے اپنے سرمائے کے تحفظ کیلئے سرمائے کی محفوظ پناہ گاہیں بنائی ہیں. دنیا کا کوئی بھی آف شور بینک ، امریکہ ، برطانیہ اور یورپ کے ریاستی (نجی پڑھئیے) بینکوں کے ڈھانچے کا حصہ بنے بغیر کسی بھی قسم کا کاروبار یا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا اور 
ان ریاستی بینکوں پر قابض لوگوں کی ساری تاریخ میں اوپر بیان کر چکا ہوں

دوسرے الفاظ میں یہ آف شور کمپنیاں اور آف شور بینک ، اصل میں اسی نظام سرمایہ داری
 کا جزو لاینفک ہیں اور اسی نظام نے اپنے مالکوں کے سرمائے کے تحفظ کیلئے ہی بنائی ہیں . اس لئے کسی بھی یورپی یا امریکی حکومتوں کی طرف سے ان پر واویلا یا ان پر پابندی لگانے کے مطالبے اصل میں نری منافقت اور سموک سکرین ہیں اور لوگوں کے غم و غصہ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے ہیں، کیا کوئی اس بات پر یقین کرنے کو تیار ہوگا کہ امریکہ اور یورپ کے ممالک محض اس شک پر کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے  پر تباہی والے ہتھیار ہیں  تو چڑھ دوڑیں اور ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں لیکن ٹیکس چوری اور ٹیکس بچانے والی محفوظ پناہ گاہیں جو چند سو مربع میل کے جزیرے ہیں کے بارے میں کچھ کرنے پر اپنے آپ کو بے بس اور بے اختیار پائیں

اب آتا ہوں موجودہ پانامہ لیکس کے قضیے کی جانب، جس دن پانامہ پیپرز کا غلغلہ بلند ہوا اور ساری میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص ہا ہا کار مچی ، میرا اسی وقت ماتھا ٹھنکا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اپنے ہی بنائے ہوئے نظام کو تہہ و بالا کرنے کی کوشش کی جائے جبکہ یہ نظام اپنے ہی سرمائے کو محفوظ کرنے کیلیے ہو

اس بابت کچھ ابتدائی تحقیق اور سوچ بچار کیا تو بات فورا کھل گئی اور دوسرے ہی دن میں
 نے ایک ٹویٹ میں اسکا اظہار کردیا تھا کہ اصل قصہ ہے کیا، تیسرے دن صدر اوبامہ کی تقریر اور امریکی محکمہ خزانہ کی ان معاملات کی تفتیش کرنے اور پھر جید امریکی و یورپی جریدوں میں اوپر تلے چھپنے والے مضامین نے میرے شک کو حقیقت میں بدل دیا کہ اصل قصہ وہی ہے

چلیں جی مزید کیا پہیلیاں بجھوانا ، اس بات کو بھی بیان کردوں کہ پانامہ پیپرز اور آف شور
 کمپنیوں و آف شور خفیہ اکاونٹس کے خلاف موجودہ مہم اصل میں کس لئے ہے

١٩٩٠ میں سوویت یونین کے خاتمے سے عالمی سرمایہ داری کو لاحق بڑا خطرہ ختم ہوگیا تھا اور دنیا کے باقی ماندہ وسائل پر بھی عالمی سرمایہ داروں کا قبضہ مکمل ہوگیا. اس قبضے کے نتیجے میں ایک نئی صورتحال یہ پیدا ہوئی کہ یورپی و امریکی سرمایہ داروں کے گروہ کے مقابلے میں روسی ، چینی ، بھارتی اور مشرق وسطی کے سرمایہ دار گروہ پیدا ہوگئے، شروع میں یہ سرمایہ دار گروہ چھوٹے اور کم اثر و رسوخ والے تھے اور انکا عالمی معاشی ہتھکنڈوں بارے تجربہ و علم بہت کم تھا اور یہ لوگ ان پرانے اصلی تے وڈے سرمایہ داروں کے گروہ کے ساتھ اور انکے نیچے لگ کر کام کرنے پر مجبور تھے لیکن چین ، روس ، انڈیا اور مشرق وسطی میں غیر یقینی سیاسی صورتحال نے ان نئے سرمایہ دار طبقوں کو بھی اپنے سرمائے کے تحفظ کیلئے ان آف شور بینکوں اور آف شور کمپنیوں کی راہ دکھلا دی

 ١٩٩٠ کے بعد سے پھیلائی جانے والی عالمگیریت، آزاد منڈی کی معیشت اور سرمائے کے
 آزادانہ بہاؤ نے ان نئے سرمایہ داروں کو اپنے ملکوں میں موجود قدرتی و معدنی وسائل سے  دولت کمانے کے بے پناہ مواقع فراہم کردئیے اور انکے پاس بھی دولت کے پہاڑ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے اس دولت کو سرمائے کی ان محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کردیا اور ان محفوظ پناہ گاہوں کے اچھے خاصے حصے پر قابض ہوگئے. عالمی سرمایہ داری کے اصلی مالکوں کو یہ کیسے گوارا ہوسکتا تھا کہ مراثی کا بچہ گاؤں کے چوہدری بننے کے خواب دیکھے تو انہوں نے اس دوران اپنے سرمائے کو محفوظ رکھنے کیلئے متبادل راستوں اور طریقوں پر غور و خوض شروع کردیا اور متبادل ڈھانچہ بنانا شروع کردیا

پچھلے چار پانچ سالوں سے مغربی میڈیا اور مغربی سیاستدانوں نے آف شور کمپنیوں اور آف شور بینکوں کے نظام پر شدید تنقید کرنا شروع کردی ہے اور حتی کہ سویٹزرلینڈ پر بھی دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے بینکوں کے رازداری سے پردہ اٹھائے. یہ سب اس بات کا اشارہ تھا کہ اصلی تے وڈے سرمایہ داروں نے اپنے سرمائے کیلئے نئی محفوظ پناہ گاہوں اور ڈھانچے کا بندوبست کرلیا ہے اور موجودہ آف شور محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے اور نئے نئے سرمایہ داروں کو انکی اوقات دکھانے کا وقت آ گیا ہے. پانامہ پیپیرز کے افشاء کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہئے کہ اصلی سرمایہ دار طبقہ ، سرمائے کی آف شور محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے جارہا اور اس ضمن میں انکو روسی، چینی اور دوسرے مخالف سیاسی و سرمایہ 
دار لوگوں کو بدنام کرنے کا مفت میں موقع بھی مل رہا ہے

یعنی سرمائے کی آف شور محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف مہم میں اصل نشانہ تو کوئی اور ہے اور اس میں شریف خاندان یا دوسری پاکستانی چھوٹی چھوٹی مچھلیاں تو خواہ مخواہ ہی پھنس گئی ہیں

پانامہ پیپرز کے حوالے سے یہ بات بھی ذہن نشین کرلیں تحقیقی صحافیوں کی عالمی تنظیم
 نامی اکٹھ کو پیسے دینے والوں میں کون کون سے اصلی تے وڈے سرمایہ داروں کی فاؤنڈیشنز شامل ہیں

   حصہ اول  یہاں پڑھئیے 

آف شور کمپنیاں علامت ہیں اصل بیماری نہیں- حصہ اول


موضوع پر جانے سے پہلے تھوڑے سے تاریخی حوالے کہ انکے بغیر اصل کہانی سمجھ نہیں آئے گی
 ملک ہے انگلینڈ ، بادشاہ ہے جیمز دوئم اور سال ہے ١٦٨٨،  جیمز دوئم کے گھر پیدا ہوتا ہے اسکا بیٹا جیمز فرانسس ایڈورڈ المعروف جیمز سوئم . بیٹے کی پیدایش نے پہلے سے الجھے جانشینی  کے معاملات کو مزید الجھا دیا. بیٹے کی پیدایش سے پہلے جیمز دوئم کی بیٹی میری دوئم جس کی شادی ہالینڈ کے ولیم سوئم المعروف ولیم  آف اورنج کے ساتھ ہوچکی تھی ، تاج برطانیہ کی جانشین تھی
مسئلہ یہ آن پڑا تھا کہ جیمز دوئم کیتھولک تھا جبکہ اسکی بیٹی اور داماد پروٹسٹنٹ اور انگلینڈ میں اشرافیہ بھی پروٹسٹنٹ تھی . جیمز سوئم کی پیدایش نے اس بات کی راہ ہموار کردی کہ اب اگلا بادشاہ بھی کیتھولک ہوگا اور یوں انگلینڈ پھر سے کیتھولک بالادستی میں چلا جائے گا  . اس خدشے کے پیش نظر انگلینڈ کی اشرافیہ نے ولیم سوئم اور اسکی بیوی میری دوئم کو دعوت دی کہ وہ جیمز دوئم کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے برطانیہ پر قبضہ کرلیں اور یوں اسی سال جیمز دوئم کو اقتدار سے بیدخل کردیا گیا اور اس انقلاب کو شاندار انقلاب کا نام دیا جاتا ہے
ولیم سوئم اور میری دوئم برطانیہ کے اقتدار پر قابض تو ہو گئے لیکن اگلے کئی سالوں میں خانہ جنگی اور فرانس (جسکا جیمز دوئم کے ساتھ الحاق تھا ) کے ساتھ جنگوں میں الجھ کر برطانیہ کا تقریبا دیوالیہ نکل گیا
سال ١٦٩٤ تک حالت یہ ہو گئی تھی کہ برطانیہ کا بادشاہ ولیم سوئم قرضدار ہوچکا تھا اور انگلینڈ ، سکاٹ لینڈ ، ائیر لینڈ میں جاگیرداروں پر مزید ٹیکس لگانے کی کوئی سبیل نہ تھی کہ سخت بغاوت کا خدشہ تھا
برطانیہ کو معاشی دیوالیہ اور بادشاہ کو اس صورتحال سے بچانے کیلئے کئی تجاویز پر غور شروع ہوا اور اس زمانے میں ایک سکاٹش شخص  ولیم پیٹرسن نے ایک بینک کے قیام کا خاکہ اور تجویز پیش کی. تجویز یہ تھی کہ بادشاہ کو درکار بارہ لاکھ پاونڈ کی رقم فراہم کی جائے گی اور اسکے بدلے میں بادشاہ ایک نجی بینک ، بینک آف انگلینڈ کا چارٹر سرمایہ داروں کے ایک گروہ کو دے گا اور یہ بینک ، نوٹ جاری کرنے اور جتنے مرضی نوٹ جاری کرنے  اور بادشاہ / برطانیہ کو دئیے گئے قرضہ کے عوض ، عام عوام پر ٹیکس لگا کر اپنا قرض وصول کرنے کا حقدار ہوگا، یعنی کہ ریاست اور حکومت کے معاملات پر نجی سرمایہ دار انتہائی اثر و رسوخ والے بن بیٹھے  
چونکہ اس زمانہ میں کرنسی کا معیار سونا ہوا کرتا تھا اور سونے پر اجارہ داری سناروں اور خاص طور پر گولڈ سمتھ خاندان کی تھی تو انہوں نے درکار زیادہ تر سرمایہ فراہم کیا اور بینک میں بڑے حصہ دار بن گئے.
اب حقیقت حال یہ ہو گئی کہ بادشاہ اس غرض سے بے نیاز ہوگیا کہ اپنے اللے تللوں اور جنگوں کے لئے درکار سرمائے کا کہاں سے بندوبست کیا کرے ، اسکو جب بھی پیسہ درکار ہوگا وہ بینک سے لے لے گا اور بینک کے نجی سرمایہ دار اس قرض اور قرض پر چڑھے سود کی وصولی کیلئے مرضی سے نوٹ جاری کرنے اور عوام پر ٹیکس لگانے میں آزاد و خود مختار تھے اور اس بات میں بھی آزاد و خودمختار کہ کس کس شے اور خدمات پر ٹیکس لگا سکتے ہیں  اور بادشاہ کے لئے ہوئے قرض کو عوام پر قرض میں بدل کر اسے قومی قرض کا نام دیدیا گیا اور عوام سے کسی نے پوچھنے کی زحمت بھی گوارا نہ کی کہ آیا آپ کو یہ قرض قبول بھی ہے کہ نہیں
اور یوں دنیا میں ریاستی بینک کے لبادے میں نجی سرمایہ داروں کے کسی ملک کی اکانومی کو کنٹرول کرنے ، قومی قرضہ نام کے عفریت اور عوام پر مستقل ٹیکس لگانے کی بنیاد رکھ دی گئی، ناصرف یہ بلکہ اس بات کی بنیاد بھی رکھ دی گئی کہ عوام کے اوپر ٹیکس لگانے ، بڑھانے ، کم کرنے یا ختم کرنے میں عوام کی مرضی و منشاء کا کوئی اختیار ، اثر یا رائے نہیں ہوگی  
چلئے تاریخ کے پہئے کو تھوڑا آگے کو گھماتے ہیں، سال ہے ١٨١٥ اور مقام ہے واٹرلو ، نپولین کی فوجوں کو شکست ہو چکی ہے اور ڈیوک آف ویلنگٹن  فتح کے جھنڈے لہرا رہا ہے لیکن ٹھہرئیے ، ڈیوک آف ویلنگٹن کے نیتھن روتھس چائلڈز کے ساتھ قریبی تعلقات کو نظرانداز نہ کیجئے . اصل میں ڈیوک آف ویلنگٹن کو اسکی فوج کے اخراجات کیلئے زیادہ تر سرمایہ نیتھن روتھس چائلڈز نے ہی فراہم کیا تھا، اور یہ نیتھن روتھس چائلڈز کی مالی امداد ہی تھی جس نےفرانس کی شکست کے نتیجہ میں برطانیہ کو دنیا کی سب سے بڑی استعماری سلطنت بننے میں مدد کی تھی.  ویسے تو اس خاندان نے نپولین بونا پارٹ کو بھی جنگ کیلئے سرمایہ فراہم کیا تھا
اب یہ نیتھن روتھس چائلڈز کون ہیں ، یہ صاحب ہیں مشھور عام روتھس چائلڈز خاندان کے چشم و چراغ جنہیں اسکے باپ مائیر روتھس چائلڈز نے برطانیہ میں نام اور پیسہ کمانے کیلئے بھیجا تھا اور موصوف نے دنیا کی سب سے بڑی  بزنس ایمائر کھڑی کی. تو جناب نیتھن روتھس چائلڈز نے ڈیوک آف ویلنگٹن کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میدان جنگ سے لیکر لندن تک تیز رفتار معلومات کی بہم رسانی کا اپنا متوازی نظام قائم کر رکھا تھا . جونہی نیتھن روتھس چائلڈز تک برطانیہ کی فتح کی خبر سب سے پہلے پہنچی ، اس نے اس خبر کو خفیہ رکھتے ہوئے ، لندن کی سٹاک مارکیٹ میں اپنے سٹاک اور خاص طور پر پاونڈ اور بینک آف انگلینڈ کے سٹاک  فروخت کرنا شروع کردئیے. چونکہ نیتھن بہت بڑا سرمایہ دار تھا اور ڈیوک آف ویلنگٹن کے انتہائی قریب  تو باقی سرمایہ دار یہ سمجھے کہ برطانیہ کو جنگ میں شکست ہوگئی ہے تو انہوں نے فوری طور پر اپنے سٹاک اونے پونے بیچنا شروع کردئیے ، اسکی وجہ سے لندن کی سٹاک مارکیٹ بیٹھ گئی اور قیمتیں زمین پر آ گری، نیتھن روتھ چائلڈز نے اگلے تین دن جتنا ہوسکتا تھا لوگوں سے انکے سٹاک اونے پونے خریدنا شروع کردئیے اور جب تک لندن میں نپولین کی شکست اور برطانیہ کی فتح کی باضابطہ اطلاع آئی ، وہ برطانیہ کا سب سے امیر شخص بن چکا تھا. روتھ چائلڈ خاندان ، اتنا امیر ہو گیا تھا کہ ١٨١٥ سے ١٨٢٥ کے درمیان اس نے بینک آف انگلینڈ کو دیوالیہ ہونے سے بچنے کیلئے تمام درکار سرمایہ فراہم کیا اور ایک طرح سے باقی دوسرے سرمایہ داروں کے ساتھ ملکر  بینک آف انگلینڈ کا مالک بن بیٹھا اور انگلینڈ میں کرنسی،  اسکی رسد اور حکومتی بانڈز پر اسکی اجارہ داری قائم ہو گئی ، کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں اس نے یہ مبینه مشھور الفاظ کہے تھے




شائد بہتوں کو یہ حقیقت معلوم نہ ہو کہ ١٩٤٦ تک بینک آف انگلینڈ ایک نجی بینک تھا اور جب اسکو اسی سال قومیایا گیا تو چونکہ حکومت کے پاس اتنا سرمایہ موجود نہیں تھا تو حکومت نے قیمت کے بدلے حکومتی گارنٹی بانڈز یعنی سٹاک جاری کیے اور حکومت برطانیہ آج تک ان سٹاک کے اوپر منافع اور سود دینے کی پابند ہے ، دوسرے الفاظ میں آج بھی نجی سرمایہ دار بینک آف انگلینڈ کے مالک ہیں
یہ کہانی بتانا اس لئے بھی ضروری تھا کہ یہ کام امریکہ میں راک فیلر ، روتھس چائلڈز ، جے پی مورگن وغیرہ نے  پھر ١٩١٣ میں فیڈرل ریزرو کے نام پر کیا اور نجی بینکوں کا ایک کنسورشیم یعنی اکٹھ بنا کر کرنسی کی طلب و رسد اور اسکے اجراء پر قابض ہو گئے.

١٩١٣ میں امریکی سٹاک مارکیٹ کو جان بوجھ کر تباہ کرنے میں یہی نجی بینکر شامل تھے اور بعد میں امریکی کاںگریس سے عوام کو دھوکے میں رکھتے ہوئے فیڈرل ریزرو بنانے کی منظوری لے لی ، شائد آپ کو جان کر حیرانی ہو کہ امریکی فیڈرل ریزرو ، ریاستی یا سرکاری بینک  نہیں ہے بلکہ نجی بینکوں کا کنسورشیم ہے جس کو مرضی سے ڈالر چھاپنے ، جاری کرنے کی پوری اجازت ہے اور یہی ڈالر چھاپ کر امریکی حکومت کو قرضہ دیتا 
ہے جسکو امریکی حکومت عوام پر ٹیکس لگا کر مع سود ان بینکوں کو واپس کرتی ہے 

سرمایہ داروں کے اسی اثر و رسوخ، دھوکہ دہی اور روپے پیسے کے اوپر کنٹرول کی بات تھی کہ امریکی صدور تک یہ بات کہنے پر مجبور ہوگئے تھے 









جن حضرات کو یہ سب سازشی مفروضوں والی کہانی یا  اوریا مقبول جان والی کہانی لگ رہی ہے وہ اپنا وقت مزید ضائع کرنے کی بجائے طاہر شاہ کی فرشتے والی ویڈیو دیکھ لیں 



Monday, March 14, 2016

ایم کیو ایم -- نامعلوم

جب سے جناب مصطفے کمال اور جناب انیس قائم خانی کی کراچی میں اچانک اور ڈرامائی رونمائی ہوئی ہے اور جناب الطاف حسین پر کھلے عام سنگین الزامات لگائے گئے ہیں تب سے لوگ حیران پریشان ہے کہ یہ ہوا کیا ہے . عام بندے سے لیکر بڑے بڑے جغادری تجزیہ نگار اپنے اپنے قیافے لگا رہے ہیں ، کوئی اسکو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ایم کیوایم کو توڑنے کی سازش بتا رہا ہے ، کوئی اسکو نوے کی دہائی والا کھیل قرار دے رہا ہے ، کوئی اسکو اردو بولنے والوں کی طرف سے اپنے اوپر لگے دھبوں کو دھونے کی کوشش قرار دے رہا ہے ، کوئی اسے حقیقت میں ضمیر کی آواز قرار دے رہا ہے . الغرض سو طرح کی باتیں

سندھ کے اردو بولنے والے کی اکثریت حسب معمول اسے اردو بولنے والوں کے خلاف اسٹبلشمنٹ کی نئی سازش اور چال بتا کر اسے یکسر رد کررہی ہے اور پھر سے اس انہونے خوف کا شکار ہے کہ اسے پھر سے سیاسی طور پر تنہا کیا جارہا ہے ، ملک کی دوسری سیاسی جماعتیں اس بارے اپنے اپنے اندازے لگا رہی ہے ، کوئی دبے لفظوں میں اسے فوج کی طرف سے سیاسی جماعتوں پر ایک اور حملہ قرار دے رہا ہے تو سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادتیں اس بارے خاموشی کی لمبی چادر تانے ہوئے ہیں

ٹی وی کے اینکر حضرات تو بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹے کے مصداق اس پر نت نئے تبصرے اور لندن سے الطاف حسین کے جسمانی و  دماغی طور پر غیر فعال ہونے ،  مصطفے عزیز آبادی کے الطاف حسین کا بہروپ بھرنے سے لیکر جناب الطاف حسین کی موت کی خبر تک پھیلانے کا منجن با آواز بلند بیچنے میں مصروف ہیں  
ہر دوسرے تیسرے روز ایم کیو ایم کی پپتنگ کٹنے یعنی کسی بڑے رہنما کے ضمیر جاگنے کی خبر آجاتی ہے جو زور و شور سے سب کو بتانے میں مضروف ہوتا ہے کہ وہ تو ننھا منا دودھ پیتا چالیس پچاس سال کا بچہ تھا جسے جناب الطاف حسین نے گندے کاموں میں زبردستی ملوث کردیا اور وہ دل سے ان کاموں سے نفرت کرتا تھا لیکن مجبور تھا

میں بھی اس سارے قصے کو دیکھ رہا ہوں اور سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اصل میں ہوکیا رہا ہے اور کیا ہونے جارہا ہے اور کیسے ہونے جارہا ہے
تو صاحبو کچھ سوچ بچار کرنے اور سیاسی چالوں کو سمجھنے کی کوشش میں  سیاسی تجزیہ کا لچ ہم بھی تلنے جارہے ہیں  

میرے خیال کے مطابق ، اصل کہانی جناب مصطفے کمال کی پہلی پریس کانفرنس میں ہی موجود تھی ، اس پریس کانفرنس میں ہی اتنا بڑا اشارہ یعنی کلیو موجود تھا کہ صرف اس پر غور کرنے سے ساری کہانی کھل جاتی ہے . وہ اشارہ کیا تھا ، وہ اشارہ تھا جناب مصطفے کمال کا اپنی نئی سیاسی جماعت کا نام نہ رکھنا ، یعنی یہ کیا بات ہوئی کہ آپ سیاسی جماعت تو قائم کرنے جا رہے ہیں لیکن اسکا کوئی نام ہی نہیں رکھ رہے، ایک ایسی حقیقت جس میں ہم سب رہ رہے ہیں، جس میں اللہ تعالیٰ بھی آدم کو اسکی تخلیق کے بعد نام ہی سکھاتے ہیں ،ایسی حقیقت جس میں بغیر نام کے کسی بھی شے یا انسان کی کوئی پہچان نہیں ہے اس میں نئی سیاسی جماعت بن رہی ہے لیکن نام کوئی نہیں ہے ، ہے ناں حیرت کی بات

تو جناب نام کی اس لئے ضرورت نہ تھی کہ نام تو پہلے سے ہی موجود تھا ، جب پہلے سے نام موجود ہو اور سب کا جانا پہچانا اور زبان زد عام ہو تو کسی نئے نام کی بھلا کیا ضرورت ، ابھی بھی نہیں سمجھے ، بھائی جب ایم کیو ایم کا نام پہلے سے موجود ہے تو نیا نام رکھنے کی کیا ضرورت ہے

اب آتے ہیں کہ اصل کھیل یا سیاسی ناٹک کیا ہے

سب جانتے ہیں کہ ایم کیو ایم کن کی بنائی ہوئی ہے اور کن کے ہاتھ کا رومال ہے. ایم کیو ایم  بنانے والوں کیلئے ایم کیو ایم سندھ میں پی پی پی اور سندھی قوم پرستوں کو کاؤنٹر کرنے یعنی جواب دینے اور انکو کینڈے میں رکھنے کیلئے بنائی گئی تھی ، میں یہاں پر اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ اردو بولنے والوں کی مکمل حمایت ایم کیو ایم کو حاصل رہی ہے اور عام اردو بولنے والوں نے اسکو اپنے حقوق کے تحفظ کی واحد ضمانت سمجھا  لیکن فی الحال یہ موضوع نہیں ہے

پچھلے چند سالوں سے جناب الطاف حسین ، ایم کیو ایم اور اسکے بنانے والوں کیلئے ناگوار بوجھ یعنی لائبیلٹی بن گئے تھے . وجوہات بیشمار تھیں، انکے برطانوی اسٹیبلشمنٹ سے رابطے، بنانے والوں کی ہر بات ماننے سے انکار، اپنے آپ کو اپنے سیاسی قد سے بڑا دیکھنے کی خواہش و زعم، کراچی کی بدامنی کو کنٹرول نہ کرنا بلکہ اسکو مزید بڑھاوا دیتے جانا وغیرہ وغیرہ ، بنانے والے اشارے کنائے میں جناب الطاف حسین کو بتاتے آ رہے تھے کہ جناب بس بہت ہوگیا اور وہی کیجئے جس کیلئے آپکو لیڈر بنایا گیا تھا لیکن الطاف حسین ان سب باتوں کو مسلسل نظرانداز کرتے آ رہے تھے بلکہ کھل کر اسکے خلاف عمل کرنا شروع ہوگئے تھے. اور تو اور ، الطاف حسین نے پیش بندی کے طور پر ہر اس بندے کو منظر سے فورا ہٹا دیا یا پیچھے کردیا جو کہ قیادت کا ممکنہ امیدوار ہوسکتا تھا اور یہ کہنا شروع کردیا کہ مائنس الطاف فارمولے کو کوئی مہاجر قبول نہیں کرے گا. بنانے والوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جارہا تھا اور یہ حقیقی خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ کراچی میں ایم کیو ایم کی سیاسی قوت میں کمی آ جائے اور پی پی پی کے مقابلے میں اس کاونٹر ویٹ میں کمی ہوجائے اور اسکے دو تین ٹکڑے ہوجائیں.
ڈاکٹر عمران فاروق کا قتل اور اس سے جناب الطاف حسین کیلئے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں وہ سنہری موقع تھا جب بنانے والوں کیلئے ایم کیو ایم کی طاقت کو الطاف حسین کے بغیر قائم رکھنے کا وقت آ گیا تھا. ایم کیو ایم پر لگنے والے تمام الزامات کو الطاف حسین کے کھاتے میں ڈال کر ایم کیو ایم کو ایک بار پھر سب کیلئے قابل قبول بنانے کا عمل شروع ہوگیا اور اس سارے عمل پر پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے کام جاری تھا . چونکہ یہ کام ایم کیو ایم کو توڑے بغیر کرنے کا منصوبہ تھا تو اسکے لئے بظاہر صاف ستھرے بندوں کا انتخاب ضروری تھا چنانچہ نگاہ انتخاب جناب مصطفے کمال پر پڑی اور خوب پڑی
تو جناب سارا منصوبہ یا پلان یہ ہے ایم کیو ایم تو ویسے کی ویسے رہے گی بس اس میں جناب الطاف حسین نہیں ہونگے ، وہی تمام بندے ہونگے جن پر سنگین الزامات لگتے رہے ہیں لیکن  پاکبازی و عام معافی کا غسل دیکر انہیں پاک و پوتر کردیا جائے گا، جب تقریبا سارے اہم لوگ ہی   مصطفے کمال کے بہائے ہوئے آنسوؤں سے دھل جائیں گے تو کسی کو شک بھی نہیں ہوگا کہ یہ تو وہی راسکل یا غنڈے ہیں جو الطاف بھائی کے نام یا ایماء پر لوگوں کو زندہ جلاتے رہے ہیں یا ٹارگٹ کلنگ کرتے رہے ہیں یا بھتہ کی بوریاں بھر بھر کر الطاف حسین کیلئے سکاٹش وہسکی کی بوتلوں کا بندوبست کرتے رہے ہیں اور انکے بے سرے گانے سنوانے کا بندوبست کرتے رہے ہیں

باقی کی کہانی کا کچھ خود بھی سوچ لیں ، اب سارا کچھ میں تو بتانے سے رہا


اب آیا سمجھ میں کہ ایم کیو ایم نامعلوم کا نام کیوں نہیں ہے 


Tuesday, November 10, 2015

پاکستان میں اداروں کے قیام کی بحث – دوسرا پہلو


پاکستان میں شدید زلزلہ ، ہزاروں مکانات گر گئے ، سینکڑوں لوگ ہلاک ،ہزاروں 
امدادی کاروائی کے منتظر

نیشنل ہائی وے پر دو بسوں میں تصادم ،حادثے میں اسی لوگ مارے گئے، زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے میں شدید مشکلات

فیکٹری میں آگ لگنے سے دو سو کارکن ہلاک، سینکڑوں زخمی، ایمبولینس اور فائر بریگیڈ آنے میں تین گھنٹے لگے

پولیس کا بیگناہ لوگوں پر تشدد.عوام کا شدید احتجاج ، تھانیدار کو معطل کر دیا گیا

بجلی کی پیداوار کے منصوبوں میں اربوں روپے کی کرپشن کا انکشاف

وڈیرے نے اپنے مزارعوں پر کتے چھوڑ دئیے، پولیس خاموش تماشائی

یہ اور اس طرح کے خبریں جب ہمارے اخبارات کی زینت بنتی ہیں تو ایک بات جس کا دھوم دھڑکے اور زور شور سے ذکر کیا جاتا ہے کہ ان تمام مسائل کے ہونے کی وجہ ،جی ہمارے ہاں ادارے نہیں ہیں یا ادارے غیر سیاسی اور آزاد نہیں ہیں ، گویا کہ ادارے نام کی گیڈر سنگھی ہے جو ہمارے تمام مسائل حل کردے گی اور جونہی یہ ادارے نام کا جن وجود میں آئے گا ، پلک جھپکتے ہی ہمارے تمام دلددر دور ہو جائیں گے اور ہمیں ہمارے تمام مسائل سے چھٹکارا مل جائے گا اور ہر دن عید اور ہر رات ، شبرات کا روپ لئے آئے گی

مان لیا حضور کہ ہمارے ہاں ادارے نہیں ہیں یا یہ کہ ہمارے ادارے کمزور ہیں ، مان لیا ہمیں ادارے چاہئے اور ہمیں اداروں کو مضبوط بنانا ہے

لیکن کیا معاملہ اتنا ہی آسان اور سادہ ہے. کیا ہم نے کبھی غور کیا کیا ہے کہ ادارے ، ٹوٹے پھوٹے ہی سہی ،جو موجود ہیں ، کیا ہم نے بطور ایک ذمہ دار شہری انکو استعمال کرنے کی بھی کوشش کی ہے ، کیا ہم نے بطور ایک ذمہ دار شہری کبھی اپنے مسائل کیلئے موجود اداروں کو مروجہ قوائد ضوابط کا استعمال کرتے ہوئے ان سے استفادہ کیا ہے. کیا ہم نے کبھی اس بات کی طرف دھیان دیا ہے کہ ان اداروں کی تعمیر و مضبوطی کیلئے بطور ایک زمہ دار شہری ہماری جو ذمہ داری ہے وہ کیا ہے اور اسکو کیسے پورا کرنا

کیا ہم نے کبھی اس بات کا سوچا ہے کہ اگر ہمیں کسی سرکاری ادارے میں کام پر جائے تو بجائے اصول و ضوابط پر عمل کرنے کے ہم فورا شارٹ کٹ ڈھونڈنے کے چکر میں ہوتے ہیں اور فورا کسی سفارش کا سوچتے ہیں

کیا ہم نے اس بات کا سوچا ہے کہ ٹریفک وارڈن سے پوچھنے کے ہمارا چلان کیوں کررہا ہے اور ہم نے کونسا قانون توڑا ہے ، ہم کیوں فورا اسکو پیسے دینے کا سوچتے ہیں

کیا ہم نے سوچا ہے کہ ہم اپنے گلی محلے میں ہونے والی قانون کی خلاف ورزیوں پر خاموش رہتے ہیں اور کیوں خاموش رہتے ہیں، کیا یہ وجہ نہیں ہے کہ ہم نے خود وہ خلاف ورزیاں کی ہوتی ہیں یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں

کیا ہم نے کبھی بطور ایک ذمہ دار شہری کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ہمارے علاقے میں فوری ہنگامی امداد کے کتنے ادارے ہیں اور انکی کارکردگی ، صلاحیت اور استطاعت کی حالت کیسی ہے اور کیسے ہم متعلقہ اداروں یا حکومت کو اسکی بری حالت بارے بتائیں اور اسکے لئے فنڈز اور تربیت کو یقینی بنائیں
کیا ہم نے کبھی اپنے مقامی سرکاری سکول ، کالج کا دورہ کیا ہے کہ اسکی حالت کیسی ہے ، اسکا معیار تعلیم کیسا ہے ، اسکو بہتری کیلئے کیا درکار ہے اور ہم بطور ایک ذمہ دار شہری کیا کردار ادا کر سکتے ہیں

کیا ہم نے کبھی علاقے کے سرکاری ہسپتال ، طبی مرکز یا ڈسپنسری میں جانے کی زحمت کی ہے کہ وہاں عملے کے کیا اوقات کار ہیں اور کن مشکلات میں لوگ کام کر رہے ہیں یا کام نہیں کر رہے اور سرگرمی سے اس بات کو یقینی بنایا ہو کہ ہم اپنے منتخب نمائندوں اوراعلی  سرکاری اہل کاروں کو اس بارے بتائیں

کیا ہم نے کبھی انفرادی طور پر یا محلے کا کوئی وفد بنا کے علاقے کے تھانے میں جانے کی زحمت کی ہے اور جاننے کی کوشش کی ہے کہ ایف آئی آر درج کروانے کا طریقہ کار کیا ہے اور کیسے اسکو بہتر کیا جا سکتا ہے اور تھانے میں کتنے بے گناہ لوگ موجود ہیں

ایسے ہے بیشمار کام اور ہیں جن کی میں یہاں مثال دے سکتا ہوں لیکن بات کو طول دینا مقصد نہیں ہے

اداروں کے بنانے کی جو بحث ہے وہ دو طرفہ ہے، ایک حکومت یا ریاست کی طرف سے  اور دوسری بطور ایک ذمہ دار شہری ہونے کی طرف سے، جبتک ہم دونوں پہلوؤں بارے توجہ نہیں دیں گے ، نہ تو ادارے بن سکتے ہیں اور نہ ہی ادارے مضبوط ہو سکتے ہیں

ایک بہت ہی اہم اور کلیدی نکتہ اس ساری بحث میں یہ ہے کہ کسی بھی مہذب معاشرے کے ذمہ دار شہری ، اپنے ملک کے اداروں کی وجود پزیری ، بقاء اور استحکام کیلئے اپنا وقت اور توانائی صرف کرتے ہیں ، وہ گھروں میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے رہتے کہ ہر حادثے ، سانحے یا قدرتی آفات میں غیب سے مدد آئے گی اور انکے ادارے خود بخود کام کرنے لگ جائیں گے

ہمیں اس نفسیاتی کیفیت اور حالت سے باہر نکلنا ہو گا کہ اپنے یا علاقے کے کسی مسئلہ کیلئے ہمیں سفارش ڈھونڈنی چاہیے اور اپنا وقت بچانا چاہئے اور فورا نچلے درجوں کو چھوڑ کر سب سے اونچے عھدے والے بندے سے بات کرنی چاہیے

ہمیں اداروں کیلئے اپنا وقت دینا ہی ہوگا ، ہمیں اداروں کیلئے اپنی توانائی خرچ کرنی ہی ہوگی ، ہمیں اداروں کیلئے ، انکے استحکام کیلئے ، انکی بقا کیلئے ان اداروں کو استمعال کرنے کے اصول ، قوائد اور ضوابط بارے جاننا ہی ہوگا
اگر یہ سب نہیں کریں گے تو سو چھوڑ ہزار نئے ادارے بنا لیں ، وہ ادارے کچھ 
نہیں کر سکیں گے


شاہ برہمن 

Monday, November 9, 2015

قومی تعمیراتی منصوبے اور سیاسی مداخلت



پاکستان میں بننے والے پچھلے بیس تیس سال کے قومی تعمیراتی منصوبوں کو اگر دیکھا جائے تو شائد ہی کوئی ایسا قومی تعمیراتی منصوبہ ہوگا جو متنازع نہ ہو، شائد ہی کوئی ایسا قومی منصوبہ ملے گا جس کی کسی نہ کسی حوالے سے مخالفت نہ کی گئی ہو یا اس پر مختلف اعتراضات کی بھرمار نہ ہوئی ہو


ایسا نہیں ہے کہ کسی ایک سیاسی جماعت کی حکومت کے منصوبے پر اعتراض ہوا ہو یا کسی ایک مخصوص علاقے میں مجوزہ منصوبے پر اعتراض ہوا ہو، تمام قومی تعمیراتی منصوبے ، چاہے وہ کسی فوجی حکومت نے شروع کیے ہوں یا منتخب سیاسی حکومت نے ، وہ منصوبے کسی سڑک کی تعمیر سے تعلق رکھتے ہوں یا کسی آبی ڈیم کی تعمیر سے ، وہ منصوبہ ایک نئی بحری بندرگاہ کی تعمیر ہو یا کسی شہر میں میٹرو بس کا منصوبہ ہو ، تمام کے تمام کسی نہ کسی حوالے سے اختلافات اور تنازع کا شکار ہوئے ہیں اور کسی بھی منصوبے پر ایک قومی اتفاق رائے ممکن نہیں ہوسکا


ان منصوبوں کو شروع کرنے والی حکومتیں ، چاہے وہ فوجی ہوں یا سیاسی منتخب حکومتیں ، ان منصوبوں کی مخالفت کرنے والوں کو قومی ترقی کے دشمن سے لیکر محض نری سیاسی مخالفت کے طعنوں سے نوازتی رہی ہیں. حال یہ ہے کہ ان منصوبوں کے مکمل ہو جانے کے بعد بھی تنازعات ختم ہونے میں نہیں آ رہے اور ابھی تک ان منصوبوں کے قابل عمل و قابل قبول ہونے بارے بحث و مباحثہ جاری و ساری ہے


میری ناقص رائے میں ان تمام اور مستقبل کے قومی تعمیراتی منصوبوں کیلئے ہمیں ایک نئی سوچ اور ایک نئی سیاسی فکر کی ضرورت ہے. ہمیں قومی سیاسی منصوبوں کو ہر حال میں سیاست اور سیاسی جماعتی مفاد سے علیحدہ کرنے کی اشد ضرورت ہے . اسوقت تک ان منصوبوں کی جو صورتحال رہی ہے وہ اس بات کا واضح ثبوت دیتی ہے کہ قومی تعمیراتی ترقی کے منصوبے ، قومی منصوبے کم اور ذاتی پسند ناپسند اور سیاسی مفادات کے منصوبے زیادہ تھے


قومی ترقی کے تعمیراتی منصوبوں کیلئے میں کچھ تجاویز عرض کر رہا ہوں اور تمام پاکستانی عوام کو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ان پر غور کرنےکی دعوت دے رہا ہوں 

قومی ترقی کے تمام تعمیراتی منصوبوں کیلئے ایک آزاد اور مکمل غیر سیاسی پیشہ وارانہ ادارہ بنایا جائے 

اس ادارے کا یہ کام ہونا چاہئے کہ قومی ترقی کے تعمیراتی منصوبوں کیلئے تین سالہ ، پانچ سالہ ، دس سالہ اور پندرہ سالہ تجاویز دے

اس ادارے کے تجویز کردہ کسی بھی منصوبے کے علاوہ ، قومی ترقی کےتمام تعمیراتی منصوبے شروع کرنے پر پابندی ہونی چاہئے

کسی بھی حکومت ، وہ سیاسی ہو یا فوجی ، اسکو آئینی طور پر پابند کیا جائے کہ وہ اپنی مرضی سے قومی ترقی کا کوئی بھی تعمیراتی منصوبہ شروع نہیں کر سکتی

تمام موٹر ویز ، ائیرپورٹ ، ریل کی پٹری کے منصوبے ، آبی ذخیرہ جات ، بجلی کی پیداوار، میٹرو بس یا میٹرو ٹرین، وغیرہ اس ادارے کے دائرہ کار میں ہونے چاہییں

ایسا کوئی بھی منصوبہ جس کی لاگت بیس ارب روپے سے زائدہ ہو ، اس ادارے کے دائرہ کار میں ہو

کسی بھی منصوبے کی جگہ کا تعین اس ادارے کی ذمہ داری ہو اور یہ کام مکمل غیر سیاسی مداخلت، اقتصادی قابل عمل اور ملکی ترقی کے نقطہ نظر سے ہو

تمام منصوبوں کی پیداواری لاگت اور ان سے ہونے والے عوامی و اقتصادی فوائد کا جواز دینا ، اس ادارے کی ذمہ داری ہو


ایک اعتراض یہ کیا جائے گا کہ پلاننگ کمشن کا ایک ادارہ پہلے سے موجود ہے تو ایک نیا ادارہ بنانے کا کیا فائدہ . جس ادارے کی میں بات کر رہا ہوں وہ پیشہ ور لوگوں کا ادارہ ہوگا ، جس میں تمام سیاسی جماعتوں اور طبقوں کی نمائندگی ہوگی لیکن فیصلے مکمل غیر سیاسی قومی ترقی کے نقطہ نظر سے کیے جائیں گے

اس ادارے کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ سیاسی فائدے کیلئے بجٹ کی مختلف مدوں کے ساتھ کھلواڑ نہیں ہو سکے گا اور قومی ترقی کے تعمیراتی منصوبوں کیلئے اپنی حکومت کے علاوہ آنے والی حکومتوں کے دور میں ان منصوبوں کیلئے رقم مختص کرنی پڑے گی

قومی ادارے کے ساتھ ساتھ صوبائی سطح پر بھی اسی طرح کا غیر سیاسی پیشہ وارانہ ادارہ بنانا چاہئے تاکہ صوبائی سطح پر بھی بڑے تعمیراتی منصوبے ، کسی سیاسی مداخلت کے بغیر وجود پزیر ہوں اور تعمیر ہوں 

چونکہ ملکی ترقی کے تعمیراتی منصوبے تمام عوام کے ٹیکسوں سے بنائے جاتے ہیں تو ایسے منصوبے کسی ایک علاقے یا کسی ایک طبقے کو فائدہ پہنچانے کیلئے کرنا ، باقی علاقوں اور لوگوں کا استحصال کرنا ہے. 

جب تک ہم قومی ترقی کے تعمیراتی منصوبوں کیلئے غیر سیاسی ، پیشہ وارانہ طور پر نہیں سوچیں گے ، منصوبے ہمیشہ متنازع رہیں گے اور دوسرا یہ کہ اگر کوئی منصوبہ اچھا بھی ہوا تو آنے والی حکومت اسکو جاری نہیں رکھے گی جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے 


شاہ برہمن

Saturday, October 10, 2015

مغربی سیکولرلبرل ملحدین کی توہین رسالت کی اصل وجہ




کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا پر نام نہاد دیسی لبرلز، مسلمانوں کو اس بات کے طعنے دیتے نظر آتے ہیں کہ جب کوئی غیر مسلم ، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتا ہے یا قران پاک میں تحریف یا اسکی صداقت اور کھرے پن پر سوال اٹھاتا ہے  تو تم لوگ کیوں اتنے جذباتی ہو جاتے ہو ، تم کیوں مارا ماری پر اتر آتے ہو ، تم لوگ توہین رسالت کی سزا ، سر تن سے جدا کے نعرے کیوں مارتے ہو ، ان معاملات پر تم لوگ کیوں اپنے ہوش حواس کھو دیتے ہو وغیرہ وغیرہ

میرا آج کا موضوع اس جذباتیت کو پرکھنا ، اس کا جائزہ لینا یا اسکو جانچنا نہیں ہے اور نہ ہی اس جذباتی رویے کے حق یا مخالفت میں بحث کرنا یا دلائل دینا ہے. میرا موضوع اس بات کی جانچ پڑتال اور وضاحت کرنا ہے کہ نظریاتی مغرب سے آنے والے ان توہین رسالت اور صداقت قران بارے شکوک اٹھانے والے کاموں کی بنیاد اور وجہ کیا ہے

میں یہاں پر شروع میں ہی اس پہلو سے بھی مخاطب ہو جاؤں کہ ہمارے دیسی سیکولر لبرل یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ مغرب ہر شے میں تحقیق کا قائل ہے تو اس لئے وہ اپنے  "تحقیقی مزاج"  کی بنا پر ایسا کرتا ہے اور اسکا رویہ تمام مذاہب اور انکی تعلیمات بارے ایسا ہی ہے، میرے نزدیک یہ بیانیہ  محض ایک فریب نظر ، دھوکہ اور فکری بددیانتی  کے سوا کچھ نہیں ہے اور ہمارے دیسی سیکولر لبرل اس بیانئے کو اندھے پیروکاروں کی طرح آمنا و صدقنا کہتے ہوئے قبول کر لیتے ہیں ، میں اس لئے اس بیانئے اور پہلو کو رد کرتے ہوئے  اس پر مزید وقت اور توانائی ضائع نہیں کروں گا

اصل وجوہات اور مغربی سیکولر لبرل فتور نیت کو جاننے کیلئے ہمیں تاریخ میں تھوڑا پیچھے جانا پڑے گا .جب مسلمانوں نے شام اور مصر کی فتوحات کی تو اس وقت عیسائی یورپ نے اسکو کوئی خاص اہمیت نہ دی اور یہی سمجھا کہ ہمارے (رومی سلطنت ) کے دور دراز کے کچھ علاقے چھن گئے ہیں جن پر ہم پھر قبضہ کر لیں گے . لیکن جب مسلمان فتوحات شمالی افریقہ اور سپین کے راستے مغربی یورپ،  اور ترکی کے راستے مشرقی یورپ،  کے اندر جا پہنچی تو شروع کی کچھ صدیوں میں عیسائی یورپ کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ یہ کون لوگ ہیں ، وجہ یہ تھی کہ یورپ آگے آگے بھاگ رہا تھا اور مسلمان فوجیں ان کے پیچھے پیچھے

یورپ کے اہل دانش و فکر کو اتنا وقت ہی نہیں مل رہا تھا کہ وہ اس نئے مظہر بارے 
سکون  سے بیٹھ کر غوروفکر کر سکیں. اس زمانے میں عیسائی یورپ کا اسلام   بارے تصور یہ تھا کہ یہ بت پرست لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ ہم انکے بت محمد کی پرستش کریں اور اسی وجہ سے وہ مسلمانوں کو محمڈن کہتے تھے ان کے عیسائی مذہبی طبقہ اور دوسرے اہل دانش نے اصل اسلامی فکر بارے اور اس فکر کی بنیاد اور انسان کائنات اور زندگی پر اسکے اثرات اور انسانی سوچ پر اسکے اثرات بارے غور و فکر کی زحمت ہی نہ کی تھی . جب صلیبی جنگوں کے اختتام پر مسلمانوں اور عیسائی یورپ کے درمیان ایک جنگ بندی جیسی صورتحال پیدا ہوئی اور ترکی کی آسٹریا کے محاذ سے واپسی ہوئی تو یورپ کو کچھ سانس لینے کا موقع ملا اور اسلامی فکر ، اسلام کی اصل اور بنیاد بارے سوچ و بچار اور کتابیں لکھی جانے لگیں. اس دوران یورپ نے اسلام اور اسکی فکر کو محض ایک فوجی مظہر ہی نہیں بلکہ ایک نظریاتی و فکری مظہر کے طور پر جاننے کی کوشش شروع کی. جو ابتدائی نظریات اور نتائج اس بارے اخذ کیے گئے اور سمجھے گئے وہ یہ تھے کہ اسلام میں تین چیزیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں

١ – قران
٢- محمد صلی اللہ علیہ وسلم
٣ – جہاد کا تصور

اب اس بات پر غوروفکر اور سوچ بچار شروع ہوئی کہ کیسے ان تصورات سے   نمٹا جائے
، اس زمانے میں زیادہ تر توجہ اسی بات پر رہی کہ مسلمانوں کے "خدا" محمد بارے ہی بکواس اور ہرزہ سرائی کی جائے ،چونکہ اسی زمانے میں یورپ میں بھی  نشاتہ ثانیہ کی لہریں  ابھرنا شروع ہوگئیں تھیں تو عیسائیت کو اپنی بقا کی پڑ گئی اور اس کا سارا زور لبرل سیکولر. الحاد اور اصلاح مذھب کی تحریکوں سے نمٹنے میں صرف ہونے لگا

چونکہ یورپ میں مذھب کا تجربہ اور تاریخ ایک بھیانک روپ لئے ہوئے تھی اس لئے سیکولر لبرل سوچ اور اسکے حاملین کیلئے مذھب کا مذاق اڑانا ، مذہبی روایات کی سند کو چیلنج کرنا ، مذہبی رسومات کی اصل کی جانچ پرکھ کا سوال اٹھانا بہت آسان تھا . اسکے ساتھ ساتھ چونکہ عیسائیت نے کافی ساری یہودی روایات کو سختی سے رد کیا ہوا تھا اور انکی جگہ اپنی من پسند تاریخی روایات گھڑ لی تھیں تو ایسی روایات کے مصدقہ ہونے کے پرخچے اڑانا بہت آسان تھا 
 ، ان روایات کا کوئی تاریخی ثبوت بھی نہ تھا تو کام اور بھی آسان ہوگیا.

یورپی نشاتہ ثانیہ کے شروع شروع میں جن لوگوں نے اسلام اور اسکی فکری بنیاد اور اسکے تاریخی سرمائے بارے لکھا یا "تحقیق" کی تو وہ اس مذہبی نفرت (یعنی عیسائیت سے نفرت ) کے تعصب اور ماحول میں کی اور اسلام کیلئے اسی جھاڑو کو استعمال کیا. چونکہ شروع میں ان سیکولر لبرلز /ملحدین کا اصل میدان عیسائیت کی مخالفت ہی تھا  تو اسلام کی طرف اتنی توجہ نہ تھی

جب یورپی (مغربی) سیکولر لبرل الحادی سوچ معاشرے میں اچھی طرح جڑ پکڑ گئی اور اس نے اقتدار اور طاقت کے ستونوں پر قبضہ کرلیا تو پھر اسکا رخ اپنے معاشرے سے باہر کے معاشروں کی طرف ہوا ، یوں ایک دفعہ پھر اسلام اور اسلام فکر کے ماخذ ، اسکے دائرہ کار اور اسکی دور رس پہنچ بارے غوروفکر اور تحقیقی کام شروع ہوا ، اس سلسلے میں ماضی کے یورپی حوالے بھی کنگھالے گئے اور ایک بار تان پھر انہی تین باتوں پر ٹوٹی جن کا اوپر ذکر کیا ہے یعنی قران ، رسول اللہ اور جہاد

یورپ جو کہ اس وقت تک ایک نئے مشترکہ فکری ڈھانچے یعنی مغرب میں ڈھل چکا تھا اور اس فکری ڈھانچے کی بنیاد لبرل سیکولر و الحاد پر مبنی فکر پر تھی ، نے اسلام کو ایک فکری و نظریاتی مخالف کے طور پر دیکھنا اور سمجھنا شروع کیا اور بالاخر اس نتیجے پر پہنچا کہ اسلام واقعی میں ایک ٹھوس حقیقت والا فکری خطرہ ہے

سیکولر لبرل و الحادی فکر نے اپنے پھیلاؤ کیلئے نوآبادی نظام و جارح فوج کشی کو بطور ایک آلہ کے استعمال کیا اور اسکے مقابلہ میں دیکھا کہ اسلام کے پاس جہاد کی صورت ایک نہایت موثر اور مہلک جواب موجود ہے ، اسلئے جہاد کی منفیت بارے نئے نئے بیانئے اور تصورات تراشے گئے ، نئے نئے فرقے اسلام کے اندر سے نکالے گئے تاکہ وہ جہاد کو منسوخ قرار دیدیں یا جدید دنیا میں اسکی جگہ نہ ہونے بارے فتاوی دیں ، بہرحال چونکہ یہ موضوع نہیں تو اس کو یہیں چھوڑتا ہوں

یورپی (مغربی ) نشاہ ثانیہ  کے بعد سیکولر لبرل الحادی قوتوں نے عیسائیت یا کسی بھی مذھب کو ہدف تنقید بنانے اور اس کی  جدید زمانے میں بے معنویت کو ثابت کرنے کیلئے اس مذھب کی الہامی کتاب اور اس مذھب کی مرکزی شخصیت کو استہزاء ، تمسخر اور مضحکہ خیزی کا نشانہ بنایا ہے. اصل مقصد و حاصل وصول یہ ہوتا ہے کہ اس بنیاد کو مشکوک بنا دیا جائے اور گرا دیا جائے جس کے اوپر اس مذھب کی ساری عمارت قائم ہے. کیونکہ اگر بنیاد ہی مشکوک اور کمزور ہوجائے تو اس پر قائم عمارت بارے ہر طرح کی باتیں اور بیان دئیے جاسکتے ہیں اور لوگوں کو اس عمارت میں پناہ لینے سے روکا جاسکتا ہے.

اگر آپ عیسائیت یا یہودیت کی مثال لیں تو آپ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ مغربی سیکولر لبرل الحادی بیانئے میں انجیل و تورات کی حیثیت بالکل مشکوک اور حتی کہ سیدنا عیسی علیہ سلام و سیدنا موسی علیہ سلام کی ذات مبارکہ کو ایک عام انسان کی حیثیت تک گھٹا دیا گیا ہے. چونکہ ان کتابوں میں خود عیسائیت اور یہودیت کی وجہ سے بے شمار تحریفات ہو چکی تھیں تو کسی بھی الہامی یعنی اللہ تعالیٰ کے قانون کو تختہ مشق بنانا اور اسکا مذاق و ٹھٹھا اڑانا آسان ٹھہرا اور اسکو منسوخ کرکے اپنی مرضی کے حیوانی و نفسانی قوانین کو لاگو کرنا بہت آسان ٹھہرا

عیسائیت و یہودیت کی بنیاد کو مشکوک بنا دینے سے سیکولر لبرل الحادی فکر نے مذھب کو سختی سے ایک چار دیواری جس کو آپ چرچ کہیں یا کنیسہ تک محدود کردیا

اب ہم آتے ہیں اسلام کی طرف، اسلام کی بنیاد بھی قران اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک پر قائم ہے ، بلکہ اگر دیکھا جائے تو اصل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک پر قائم ہے ، وہی ہیں جنہوں نے ہمیں اللہ تعالیٰ  کی ذات سے روشناس کروایا ہے اور وہی ہیں جنہوں نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی کتاب سے روشناس کروایا ہے. اب اگر رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی ذات مبارک کو کسی پہلو یا گوشے سے متنازع اور مشکوک بنا دیا جائے تو ان پر اترنے والے کلام اللہ کو مشکوک و متنازع بنایا جاسکتا ہے، اسی طرح اگر قران پاک کی الہامی/خدائی حیثیت  کو اگر مشکوک بنادیا جائے تو اس میں موجود تمام قوانین کی الہامی و خدائی حیثیت کو فورا رد کیا جاسکتا ہے ، جب قران پاک کی الہامی حیثیت کی تصدیق ناممکن ہوجائے تو اسکے قوانین پھر ہر طرح کے ردوبدل کا نشانہ بن جاتے ہیں اور اسکی جگہ انسانی نفسانی قوانین کا نفاذ بالکل آسان بن جاتا ہے

یہ ہے وہ بنیادی اور اصل وجہ کہ مغربی سیکولر لبرل ملحدین ، کیوں بار بار رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی ذات مبارک کو نت نئے طریقوں یعنی کبھی کارٹون ، کبھی فلم بنا کر، کبھی کتابیں لکھ کر استہزا اور ٹھٹھا اڑانے کی کوشش  کرتے ہیں اور کبھی ازواج مطہرات کے حوالے سے ، کبھی بنی قینقاع اور بنو قریظہ کے حوالے سے ، کبھی جہاد کے حوالے سے اور کبھی کسی اور حوالے سے متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں

ہمارے ادھار کی دانش والے نقل باز نام نہاد دیسی سیکولر لبرل و ملحدین حضرات اور وہ نادان مسلمان حضرات جو تاریخ و اصلی ایجنڈے سے واقفیت  نہیں رکھتے   وہ بھی مغربی سیکولر لبرل الحادی بیانئے کا شکار ہوکر باقی مسلمانوں کو کہتے ہیں کہ اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق یا تمسخر اڑاتا ہے تو اسکو نظرانداز کردیں اور اپنے کام سے کام رکھیں ، وہ اس بات سے بالکل بے خبر اور ناواقف ہیں کہ توہین رسالت کی اصل وجہ اور بنیاد کیا ہے

اگر آپ اسلام اور اسلامی معاملات پر بحث و مباحثہ کرنے والے مستشرقین اور وہ لوگ جو مغربی میڈیا میں ہر وقت اسلام بارے زہر اگلتے   رہتے ہیں کی تقاریر ، کتب اور سیمینارز کو، سنیں ، پڑھیں اور دیکھیں تو آپکو ایک مشترکہ بات جو نظر آئے گی وہ یہ ہے کہ اگر مسلمان اپنے اندر سے شدت پسندی، رجعت پسندی  بلا بلا بلا وغیرہ ختم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں قران کو الہامی کتاب سمجھنے سے باہر نکلنا ہوگا اور قران و سنہ کو ہر کام کی بنیاد بنانے کو چھوڑنا ہوگا ، ٹھیک ہے قران ایک اچھی کتاب ہے لیکن اس میں سب کچھ اچھا نہیں ہے، ٹھیک ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک اچھے بندے تھے لیکن مسلمانوں کو ان کے ہر کام کا دفاع کرنے کی ذہنیت اور کوشش سے باہر آنا ہوگا . قران کے قوانین اور نبی کے فرامین چودہ سو سال پہلے تو ٹھیک ہونگے لیکن آج کے زمانے میں انکی کوئی حیثیت و وقعت نہیں ہے

یہ ہے اصل بنیاد و وجہ ، یعنی مغربی سیکولر لبرل الحادی فکر ، مسلمانوں کو انکے بنیادی عقائد سے دور کرنا چاہتی ہے اور اسکیلئے انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اصل نشانہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور کلام اللہ یعنی قران کو بنانا ہوگا اور تب ہی وہ کامیاب ہونگے


ہمارے عقل و خرد سے پیدل ، بونگے اور ادھار کی دانش والے دیسی سیکولر لبرل  ، اصلی مغربی سیکولر لبرل ملحدین کے منصوبے کو سمجھے بغیر پرائی شادی میں عبدللہ دیوانہ بن کر اپنی دنیا و آخرت برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں  

Monday, September 14, 2015

عوامی منصوبے اور عوامی احساس ملکیت


شاملات کے لفظ اور حقیقت سے ہمارے پہاڑی علاقوں  اور دیہاتی علاقوں کے لوگ  واقف ہونگے ہی ، ان لوگوں کیلئے جو اس لفظ یا تصور سے واقف نہیں ہیں ، انکی معلومات کیلئے کہ یہ اس جگہ  کو کہا جاتا ہے جو کسی گاؤں یا پہاڑی علاقے یا قبیلے کی مشترکہ ملکیت ہوتی ہے ، یہ وہ زمین ، جنگل  چراگاہ  یا چشمہ وغیرہ ہوتی ہے جس پر اس ملحقہ گاؤں ، علاقے یا قبیلے کے تمام لوگوں کی بلا روک ٹوک رسائی اور وسائل پر دسترس و حق ہوتا ہے

اگر گاؤں ، علاقے یا قبیلے میں دو لوگوں کی اپنی ذاتی زمین یا دوسری ملکیت بارے کوئی لڑائی جھگڑا ہو اور ایک دوسرے کی زمین پر قبضہ بھی ہوجائے تو گاؤں والے عام طور پنچایت یا جرگہ کے ذریعہ اس کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا لوگ عمومی تھانہ کچہری والا راستہ اختیار کرتے ہیں ، اس طرح کے جھگڑے میں گاؤں یا پورا قبیلہ عام طور پرسوائے انتہائی قریبی لوگوں کے, کسی ایک بندے کا کھل کر ساتھ دینے کی بجائے  تھوڑا لا تعلق سا رہتا ہے,  
لیکن اگر گاؤں یا قبیلے کا کوئی بندہ یا دوسرے گاؤں یا قبیلے کے لوگ ، شاملات والی زمین ، جنگل ، چراگاہ یا چشمہ وغیرہ پر قبضہ جمانے کی کوشش کرے یا اسکو اپنی ذاتی ملکیت بنانے کی کوشش کرے یا اس میں خود ہی کسی تبدیلی کی کوشش کرے یا دوسرے لوگوں کی اس مشترکہ وسائل پر دسترس اور رسائی روکنے کی کوشش کرے تو پورا گاؤں یا قبیلہ اس کی مخالفت کرتا ہے اور خم ٹھونک کر مقابلے میں آ جاتا ہے، دلچسپ بات یہ ہوتی ہے کہ اس شاملات پر گاؤں یا قبیلے کے کسی ایک بندے کی کوئی واضح ملکیت یا قبضہ بھی نہیں ہوتا یا حصہ بخرہ کی نشاندھی بھی نہیں ہوتی

اصل بات اس سارے قصہ میں لفظ شاملات سے ہی واضح ہو جاتی ہے کہ" سارے کا سارا" گاؤں یا "پورے کا پورا " قبیلہ اس کی ملکیت اور ملکیت کے احساس میں شامل ہے اور اسکو سب "مشترکہ " اثاثہ سمجھتے ہیں ، سب کو اسکی ملکیت کا ناصرف احساس ہوتا ہے بلکہ سب کو اس میں شامل بھی کیا جاتا ہے اور اس شاملات کے معاملات میں اگر کوئی تبدیلی ، بہتری یا بڑھوتری کرنا مقصود ہوتی ہے تو اس فیصلے میں تمام کا تمام گاؤں یا قبیلہ شامل ہوتا ہے اور کسی کو بھی اس فیصلے سے لاعلم ، دور یا شرکت سے محروم نہیں رکھا جاتا . یہی وجہ ہے کہ سینکڑوں سال گزرنے کے باوجود ، آپ کو شاملات کے معاملات میں کم ہی جھگڑے دیکھنے یا سننے کو ملیں گے ، اگر شاملات بارے کوئی جھگڑا ہوتا بھی ہے تو وہیں ہوتا ہے جہان شاملات کے اصلی تصور کی نفی کی جاتی ہے یا اسکو بے حرمت کیا جاتا ہے

اس ساری  تمہید باندھنے کا مقصد ایک اہم مسئلہ کی طرف دھیان دلانا تھا جو کہ ہمارے معاشرے میں سیاسی تقسیم، نفرت اور سیاسی عصبیت کو بڑھاتی چلی جا رہی ہے اور لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے اچھے کاموں بارے بھی صرف نفرت ، کدورت ، بغض اور ناکامی کے جذبات ہی پیدا کرتی ہے  اور اصول شاملات کی نفی یا خلاف ورزی کرنے سے ایک بلا کی طرح بڑھتی چلی جا رہی ہے

میرا نکتہ یا دھیان اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ کیا وجہ ہے کسی بھی حکومت کا کوئی بھی اچھا منصوبہ یا کام ، سوائے اس حکومت کی اپنی سیاسی عصبیت کے، عام طور پر برا ، ناکام ، غیر معیاری یا غیر ضروری کیوں قرار پاتا ہے، 
کیوں سوائے اس حکومت اور اسکی سیاسی عصبیت کے . وہ منصوبہ ناکارہ یا رد قرار دیا جاتا ہے ، 
بات وہی ہے کہ منصوبہ کتنا ہی عوامی بھلائی اور انکی ضروریات کا کیوں نا ہوں ، وہ صرف "اپنا" منصوبہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، اس منصوبے کی منصوبہ بندی ، اس کے علاقے کے لوگوں پر اثرات ، اسکا ملک و قوم کو فائدہ ، نوک پلک ، اخراجات ، عملدرآمد بارے سب کو شامل نہیں کیا جاتا، یعنی شاملات والا کوئی 
تصور نہیں ہے

پاکستان میں کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ یا کام ، وہ یا تو ن لیگی منصوبہ ہوتا ہے ، یا انصافی منصوبہ ہوتا ہے ، یا پیپلز پارٹی منصوبہ ہوتا ہے ، یا مہاجر منصوبہ ہوتا ہے ، یا کسی دوسری سیاسی جماعت کا منصوبہ ، کوئی بھی منصوبہ قومی یا عوامی یا مشترکہ منصوبہ نہیں ہوتا یا رہنے نہیں دیا جاتا 

لوگوں کو اس منصوبے پر حق ملکیت کا کوئی احساس پیدا نہیں ہونے دیا جاتا،
 ان کو صرف یہ بتایا جاتا ہے "ہم" نے یہ منصوبہ آپکے بنایا ہے اور بس اسے قبول کرو، وہ منصوبہ کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کا منصوبہ رہتا ہیں وہ گاؤں میں دو بندوں کی لڑائی کا منصوبہ رہ جاتا ہے اور سارا ملک (گاؤں ) اس لڑائی سے لاتعلق رہتا ہے، اسی وجہ سے اگر کوئی منصوبہ ایک سیاسی جماعت یا حکومت شروع کرتی ہے اور اسے اپنے دور حکومت میں مکمل نہیں کر پاتی ، تو وہ منصوبہ اسکی حکومت کے ساتھ ہی ختم ہوجاتا ہے ، آپ کو ملک میں جا بجا ایسے منصوبے اور ان منصوبوں کی گرد و خاک میں اٹی ٹوٹی پھوٹی عمارتیں یا سڑکیں ملیں گیں

اگر آپ واقعی میں کسی عوامی بھلائی اور قومی ترقی کے منصوبے کی تکمیل کا خیال ذہن میں لئے بیٹھے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سب لوگ اس منصوبے کی دل وجان اور پوری توانائی سے حمایت و مدد کریں تو صرف اپنی سیاسی عصبیت کو ہی اس منصوبے کی منصوبہ بندی میں شریک نا کریں ، اس منصوبے کو شاملات کا معاملہ سمجھتے ہوئے تمام لوگوں کو شامل کریں تاکہ آپ کی حکومت کے جانے کے بعد بھی منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچے اور چلتا رہے اور عوام اس سے مستفید ہوتی رہے.

جب تک تمام عوام  کو معاملات میں ملکیت اور شمولیت کا احساس نہیں ہوتا یا احساس نہیں دلایا جاتا وہ کسی بھی ترقیاتی  منصوبے چاہے وہ انکی نسلوں تک کی بہتری اور فائدے کیلئے ہی کیوں نا ہو ، میں دلچسپی اور اسکی حمایت نہیں 
کرتے


برھمنیات