Sunday, July 28, 2019

مماثلت کے مغالطے



پاکستان میں اکثر لوگ اس بات پر الجھاؤ کا شکار رہتے ہیں کہ دو بالکل متضاد خیالات و نظریات کے لوگ کچھ معاملات میں بالکل ایک جیسے خیالات و عمل کا اظہار کرتے ہیں اور یہ کیسے ممکن ہوجاتا ہے ، اور لوگ ان کے اس عمل کو دیکھ کر یا تو ان پر انکی فکر و نظریہ سے روگردانی کا الزام لگانا شروع کردیتے ہیں یا انہیں وقتی مفادات کا اسیر قرار دیکر نفرت کا اظہار کرنا شروع کردیتے ہیں اور آخر کار فکری و نظریاتی لوگوں بارے یہ عمومی رائے دے دی جاتی ہے کہ سب ان لوگوں کا ڈھونگ ہے ورنہ کیسے ممکن ہے کہ بالکل متضاد نظریات کے لوگ کسی معاملے میں ایک جیسی ہی رائے کا اظہار کریں
برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے معاملے پر لیبر پارٹی اور کنزروٹیو پارٹی میں ہوئی اندرونی تقسیم اس نکتےکی وضاحت کیلئے اہم مثال ہے اور خاص طور پر لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن اور اسکے قریبی ساتھیوں کا یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج بارے موافقانہ موقف
یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کے حمایتیوں خصوصا کرتا دھرتاؤں بارے عموما یہ رائے یا خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دائیں بازو کے کٹڑ قوم پرست ، ماضی میں رہنے والے، طبقاتی نظام کے حمایتی، غیرملکیوں سے نفرت کرنے والے اور سرمایہ داروں کے گروہ سے تعلق رکھنے والے اور انکے لے پالک ہیں، لیکن جب ہم لیبر پارٹی کی موجودہ قیادت یعنی جیریمی کوربن اور اسکے ساتھیوں کو دیکھتے ہیں تو حیرانی سی ہوتی ہے کہ وہ سب تو قوم پرستی کے خلاف ،ہر رنگ و نسل کے مشترکہ سماج کے حامی، مستقبل کی طرف دیکھنے والے ، سرمایہ داری اور طبقاتی نظام کے سخت مخالف اور سوشلزم کے شدید حمایتی
اب ایسے دو انتہائی متضاد لوگوں اور گروہوں کے کسی ایک معاملے پر ایک جیسی رائے و خیال لوگوں کیلئے انتہائی الجھاؤ والی صورتحال بن جاتی ہے اور لوگ شدید حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جیریمی کوربن ، کنزروٹیو پارٹی کے ایسے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو جن سے اسکا نظریاتی و فکری طور پر اٹ کتے کا ویر ہو
اصل میں اس سارے معاملے میں عام لوگ عموما جو غلطی کرتے ہیں وہ اس اصل نکتے جس پر سارا قضیہ کھڑا ہوتا ہے کی بجائے اس نکتے کے حمایتی یا مخالف لوگوں کی قطار اور صف بندی کو دیکھ اس پر حکم صادر کر دیتے ہیں اور یوں خود بھی الجھاؤ کے شکار رہتے ہیں اور ایک ایسی فضاء بھی تیار کردیتے ہیں جس میں دوسرے لوگ بھی اسی الجھاؤ کا شکار ہوجاتے ہیں، ایسا عموما اس وجہ سے ہوتا ہے کہ عام لوگ گہرائی میں جا کر اس اصل نکتے یا قضیے کا تجزیہ یا چیر پھاڑ نہیں کرتے جسکی وجہ سے یہ صف بندی یا تقسیم پیدا ہوئی ہوتی ہے اور نہ اس صف بندی میں کھڑے مختلف الخیال لوگوں کے طویل المیعاد مقاصد و حکمت عملی کا بنظر غائر جائزہ لیتے ہیں
اگر ہم لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن اور اسکے ساتھیوں کے نظرئیے، طویل المیعاد مقاصد و حکمت عملی کو دیکھیں تو ان کی جدوجہد اس حوالے سے ہے کہ سرمایہ داروں کے تسلط کو ختم کیا جائے، بینکوں اور مالیاتی اداروں کے چنگل سے عوام کو آزاد کیا جائے، صحت ، تعلیم ، ذرائع رسل و رسائل اور دوسری عوامی خدمات میں ہوئی نجکاری کو ختم کیا جائے، سماجی ہم آہنگی پیدا کی جائے، معاشرے میں سماجی تفریق کو ختم کیا جائے اور تمام لوگوں کو تعلیم و ترقی کے برابر مواقع فراہم کیے جائیں، اس حوالے سے وہ یہ دیکھتے ہیں یورپین یونین کا منصوبہ اصل میں ملکی سطح سے بھی اوپر عالمی سرمایہ داروں اور انکے بینکوں و مالیاتی اداروں کے تسلط کا منصوبہ تھا جس میں باوجود کچھ اچھے نقاط کے اصل میں عام عوام کی خواہشات ، امنگوں و ارادوں کو کچلا گیا، اس منصوبے سے حکومتی اختیار، عوام کے ہاتھ سے نکل کر یورپی یونین کی سطح پر چند بڑے سرمایہ داروں کے ہاتھ میں چلا گیا اور وہ لوگوں کی قسمت کے فیصلے کرنے لگ گئے اور یہ سارے فیصلے اس بنیاد پر تھے کہ ک ان سرمایہ داروں کے ہاتھ میں نہ صرف عوامی و ملکی وسائل کا کنٹرول آ جائے بلکہ عوام کی زندگیوں کا کنٹرول بھی انکے ہاتھ میں آ جائے
جب برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کا معامله ایک اہم عوامی مطالبہ بن گیا تو ان لوگوں کے خیال میں انکے نظریاتی و فکری مقاصد و حکمت عملی کیلئے یہ انتہائی اہم اور پہلا قدم تھا کہ برطانیہ کو عالمی سرمایہ داروں کے چنگل سے نکالا جائے ، یہ درست ہے کہ اخراج کے دائیں بازو کے کٹڑ حمایتیوں کا بھی یہی نعرہ تھا کہ ہم برطانیہ کو یورپی یونین کے تسلط سے آزاد کروانا چاہتے ہیں لیکن انکا اصل مقصد عالمی سرمایہ داروں کے تسلط و قبضے سے برطانیہ کے معاملات کو آزاد کروا کر مقامی برطانوی سرمایہ داروں کے تسلط و قبضے میں دینا ہے اور طبقاتی نظام کو قائم رکھنا اور عوامی خدمات کی نجکاری کرنا ہے. تو ایسی صورتحال میں جیریمی کوربن اور اسکے سوشلسٹ ساتھیوں کا اخراج کی حمایت کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ اپنے دشمن کی طاقت کو کم کیا جائے اور ایک عالمی سطح کے دشمن جس کے پاس عالمی سطح کے وسائل و اختیار ہوں سے لڑنا انتہائی مشکل ہے بنسبت اس دشمن کے جس کے پاس وسائل و اختیار صرف ایک ملکی سطح پر ہے ، یعنی ایک چھوٹا اور کمزور دشمن
تو یوں بظاہرجو نظر آتا ہے کہ بورس جانسن جیسے اخراج کے کٹڑ حمایتیوں کے منصوبے کے ساتھ جیریمی کوربن جیسے انتہائی نظریاتی مخالف ایک ہی صف میں کھڑے ہیں وہ اصل میں محض نظر کا دھوکہ اور صورتحال کو گہرائی میں نہ جا کر دیکھنے کا نتیجہ ہے جبکہ یہ ایک طویل المیعاد مقصد و حکمت عملی کا حصہ ہے نہ کہ بورس جانسن اور اسکے دائیں بازو کے کٹڑ قوم پرستوں کی کسی بھی قسم کی حمایت یا اعانت
اب سوچ و تخیل کے اس زاویے کو ہم پاکستان میں بننے والے مختلف سیاسی اتحادوں یا گٹھ بندوں پر منطبق کریں تو ہمیں دکھائی دینے لگے گا کہ متضاد خیال مختلف سیاسی جماعتوں کا کسی خاص معاملے یا مسئلہ پر اکٹھا ہونا یا ایک ہی صف میں نظر آنے کا کیا مطلب ہے اور اسی طرح کسی خاص معاملے یا مسئلہ پرنظریاتی و فکری مخالف کیوں ایک ہی صف بندی یا قطار میں نظر آتے ہیں
اس لئے کسی بھی معاملے ، قضیے یا مسئلے پر لوگوں کی رائے یا عمل کی مماثلت کے مغالطے سے بچنا خود اپنی فکری شفافیت کے حصول اور فکری الجھاؤ سے بچاؤ کیلئے اشد ضروری ہوتا ہے اور اصل مسئلے، قضیے و معاملے بارے مختلف الخیال لوگوں کے اپنے نظریاتی و فکری طویل المدت مقاصد و حکمت عملی کوجاننا اور پرکھنا بہت ضروری ہوتا ہے

Monday, July 22, 2019

اعلیٰ تعلیم کا مجوزہ نظام اور نیو لبرل ازم حکمت عملی


برطانیہ میں صنعتی انقلاب کے زمانہ سے لیکر انیس سو اسی کی دہائی تک یونیورسٹی اور اعلیٰ تعلیم پر امیر اور اونچے متوسط طبقہ کی ایک طرح سے اجارہ داری رہی اور اسکی وجہ سے سرکاری و نجی تمام بہتر اور انتظامی عہدوں پر ان طبقات کا غلبہ رہا

اس صورتحال کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ انیس سو پچاس کے بعد سے غریب طبقات کے بچوں کو سکول کی تعلیم کے بعد فوری طور پر کسی نہ کسی فیکٹری/کارخانے یا ادارے میں نچلے درجہ کی نوکری مل جاتی تھی اور وہ نوکری ایک طرح سے زندگی بھر کیلئے مستقل سمجھی جاتی تھی، اس لئے غریب طبقات کیلئے چار چھ سال اعلیٰ تعلیم میں صرف کرنے کے بعد نوکری کا حصول کبھی بھی پرکشش نہ تھا اور ویسے بھی ایک ایسے ماحول میں جہاں ماں باپ، انکلز ، آنٹیز، بڑے بھائی بہن دوست احباب کو سکول کی تعلیم کے بعد فیکٹری میں نوکری کرتے دیکھا ہو وہاں زندگی میں یہی بڑی امید اور کامیابی سمجھی جاتی تھی ، اس طرح کی زندگی میں کبھی بھی بڑے عہدوں کی آرزو اور امنگ پیدا نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی اسکا کوئی حقیقی موقع

انیس سو اسی کی دہائی سے برطانیہ میں مارگریٹ تھیچر کی کنزرویٹوپارٹی کی حکومت نے برطانیہ کی اقتصادیات کو مینوفیکچرنگ کی بنیاد سے خدمات یعنی سروسز کی بنیاد والی اقتصادیات کی طرف منتقل کرنا شروع کردیا، اس حکومتی پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ برطانیہ میں مینوفیکچرنگ کے شعبے میں شدید کمی آئی اور آئے دن بڑے کارخانوں اور انڈسٹریل یونٹ کے بند ہونے سے شدید بیروزگاری آئی.

یہ سب کام نیو لبرل سرمایہ داری کا برطانیہ و امریکہ میں بالخصوص اور یورپ میں بالعموم آغاز تھا، مارگریٹ تھیچر اور رونالڈ ریگن کو ہی اصل میں نیو لبرل سرمایہ داری کی سیاسی قیادت و ریاستی نفاذ کنندگان سمجھا جاتا ہے کہ انہیں کے دور میں عوامی خدمات میں کٹوتی اور سرکاری اداروں کی دھڑا دھڑ نجکاری شروع کی گئی تھی .

غریب و نچلے طبقات کیلئے مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں نوکریوں کی کمی اور اس دور میں نئی ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے ظہور کی وجہ سے ان طبقات کے بچوں میں یونیورسٹی اور اعلیٰ تعلیم کا شوق و شعور پیدا ہوا. چونکہ سروس انڈسٹری کی بنیاد ہی کمپیوٹنگ اور آئی ٹی انڈسٹری پر تھی اور امیر و اپر مڈل کلاس کا ان شعبوں میں کوئی رجحان نہ تھا تو غریب اور نچلے طبقات کی ایک کثیر تعداد نئی ٹیکنالوجی ، جس میں آئی ٹی اور ٹیلیکام سے متعلقہ شعبے تھے میں چلی گئی اور نہ صرف اچھی تنخواہیں لینے لگی بلکہ مڈل مینجمینٹ میں بھی پہنچنے لگی،اس کے علاوہ اس مفت اعلیٰ تعلیم کے مواقع کی وجہ سے نچلے طبقات (ورکنگ کلاس ) کے لوگ ان شعبوں میں بھی جانا شروع ہوگئے جو کہ روایتی طور پر امیر اور اعلیٰ طبقات کیلئے مخصوص تھے ، یعنی قانون ، طب، سماجی علوم، فنانس، بینکنگ اور معاشیات. نیو لبرل سرمایہ داری کا ایک اہم جز، آزاد منڈی کی معیشت (فرو مارکیٹ اکانومی)، سرمائے اور لوگوں کی آزادانہ نقل حرکت بھی تھی تو اس مجبوری کی وجہ سے غریب اور نچلے طبقات کو نئی ٹیکنالوجی اور دوسرے شعبوں کی مینجمنٹ میں برداشت کرنا پڑا، نئی ٹیکنالوجی صرف آئی ٹی اور ٹیلیکام تک ہی محدود نہ رہی بلکہ ہر طرح کی مینوفیکچرنگ میں خود کاری یعنی آٹومیشن اور روبوٹس در آئے جن کی بنیاد بھی آئی ٹی کے ہی ذیلی شعبے تھے

اس سے دولتمندوں کا ایک نیا طبقہ پیدا ہوا جس کا تعلق پرانے امیر یا اپر مڈل کلاس کی بجائے غریب و نچلے طبقات سے تھا (یورپ امریکہ میں پاکستانی بھارتی و چینی لوگوں کی دوسری نسل کے اچانک امیر ہونے کے پیچھے بھی یہی عوامل اور شعبہ جات ہیں). اس نئے امیر طبقہ نے اپنے بچوں، بھائی بندوں کو دھڑا دھڑ یونیورسٹی بھیجنا اور اعلیٰ تعلیم دلوانی شروع کردی، برطانیہ میں انیس سو ستانوے تک ہر طرح کی یونیورسٹی کی تعلیم مفت تھی تو اس بات کا غریب و نچلے طبقات نے بھرپور فائدہ اٹھایا

نوے کی دہائی کے وسط میں ہی نیولبرل سرمایہ داروں کو یہ احساس ہونے لگ گیا کہ مفت کی اعلیٰ تعلیم سے ان کی معاشی اجارہ داری کو خطرہ و چیلنج درپیش ہے تو اس بارے کچھ کرنا ہوگا تاکہ غریب اور نچلے طبقات کے لوگ معاشی آزادی کی بنا پر انکے تسلط و غلبہ کو ختم نہ کردیں. برطانیہ جہاں پر نیولبرل سرمایہ داری کا کامیابی سے نفاذ کیا گیا تھا میں اس بات پر کمشن بنایا گیا کہ جائزہ لے کہ مفت کی اعلیٰ تعلیم کی فراہمی سے حکومتی خزانے پر کتنا بوجھ پڑ رہا ہے اور اس عوامی خرچ کو کم اور پھر ختم کیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ ، لیبر پارٹی جو نظریاتی طور پر سوشلسٹ ، نظریہ، پس منظر اور حکمت عملی رکھتی تھی میں نقب لگا کر ان لوگوں (ٹونی بلئیر ) کو پروموٹ کیا گیا جی نیو لبرل سرمایہ داری کے ایجنڈے کا ساتھ بالکل متفق تھے اور لیبر کی جگہ نیو لیبر پارٹی کا تصور رائج کیا گیا اور پھر ٹونی بلئیر کی وہی نیو لیبر پارٹی تھی جس نے انیس سو ستانوے میں اقتدار میں آ کر یونیورسٹی میں مفت تعلیم کا خاتمہ کرتے ہوئے طلباء کیلئے پڑھائی کے اخراجات ادا کرنے لازمی کردئیے 

تعلیمی نظام میں اس نیو لبرل سرمایہ دارانہ پالیسی کا یہ نتیجہ نکلا کہ غریب اور نچلا طبقہ جو کہ ورکنگ کلاس کہلاتا تھا کے بچوں کو ایک بار پھر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند ہونا شروع ہوگئے کہ اعلیٰ تعلیم کے اخراجات کی ادائیگی بتدریج اس ورکنگ کلاس کے بس سے باہر ہوتی گئی اور بیس سال بعد اب یہ صورتحال ہے کہ ورکنگ کلاس کے لوگوں کا اعلیٰ تعلیم میں تناسب کم ہونا شروع ہوگیا ہے اور اگر وہ اعلیٰ تعلیم کیلئے جاتے بھی ہیں تو جب ڈگری لیکر نکلتے ہیں تو ان پر پچاس ساٹھ ہزار پاونڈز کا قرض چڑھا ہوتا ہے. وہ جب نوکری حاصل کرتے ہیں تو اس قرض کی ادائیگی کی وجہ سے کسی بھی سیاسی جدوجہد کا حصہ بننے سے قاصر ہوجاتے ہیں کہ اس سیاسی جدوجہد کی وجہ سے اگر نوکری چھن گئی تو قرض کیسے ادا ہوگا 

یعنی تعلیم کی نجکاری کی نیو لبرل پالیسی سے کثیر جہتی مفاد حاصل کیے گئے، ورکنگ کلاس طبقہ کو اعلیٰ تعلیم سے ایک بار پھر محدود کردیا گیا، ان پر تعلیم کے حصول کی بنیاد پر قرض کا انبار کھڑا کردیا گیا، ورکنگ کلاس کے دل میں ڈر و خوف پیدا کردیا گیا کہ اگر انہوں نے کسی بھی قسم کی عوامی حقوق و عوامی برابری کی کسی سیاسی جدوجہد میں حصہ بننے کی کوشش کی تو نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور قرض کی ادائیگی نہ کر پائیں گے. مزید یہ کہ تعلیم کے اعتبار سے بھی انہیں ان شعبوں میں محدود کردیا گیا جو کہ صرف اور صرف ٹیکنالوجی سے متعلقہ ہیں کہ آزاد منڈی کی معیشت اور نیو لبرل سرمایہ داری کو اچھے ملازموں کیلیے صرف ان شعبوں کے "ماہرین" کی ضرورت ہے اور سماجی علوم ، فلسفہ ،قانون، سیاسیات،فنانس، بینکنگ، اقتصادیات جیسے نان ٹیکنیکل مضامین وغیرہ میں جانے اور پڑھنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں . حالانکہ یہی مضامین ہیں جن میں مہارت کسی بھی معاشرے کو چلانے ، ترتیب دینے اور آگے لیجانے کیلئے اشد ضرورت ہوتی ہے

اگر پاکستان کے حالات کو دیکھا جائے تو اعلیٰ تعلیم کے نجی تعلیمی اداروں کا قیام بھی نوے کی دہائی میں شروع ہوا جو کہ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں اپنے عروج کو پہنچ گیا. تعلیم کی اس تقسیم کا نتیجہ یہ نکلا کہ اعلیٰ تعلیم کے سرکاری ادارے اپنا معیار کھو بیٹھے اور ان سے فارغ التحصیل طلباء کے اعلیٰ عہدوں اور اہم شعبوں میں جانے کے مواقع ناممکن ہی ہوگئے اور اب وہ صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے سرکاری اداروں میں تعلیمی اخراجات اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ غریب کو تو چھوڑیں، متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کیلیے اپنے دو تین بچوں کو یونیورسٹی کی اعلیٰ تعلیم دلوانا تقریبا ناممکن ہی ہے

تعلیم کی نجکاری اور مخصوص شعبوں کی ہی تعلیم جو منڈی کی معیشت کیلئے تابعدار اور اچھے ملازم پیدا کرے ، نیو لبرل سرمایہ داری کا ایجنڈہ و حکمت عملی ہے جس پر عمران خان کی حکومت مکمل یکسوئی کے ساتھ کاربند ہے اور آئندہ چند سالوں میں موجودہ تعلیمی نظام کو بدل کر اسکی جگہ تجویز کردہ نظام کا نفاذ مقصود ہے

Tuesday, July 16, 2019

ہمارا تعلیمی نظام اور امتحانی نمبر گیم




میٹرک کے نتائج کو لیکر کل سے پاکستان میں پھر سے تعلیمی نظام اور اسکے انحطاط کو لیکر دھواں دھار بحث چھڑی ہوئی ہے ، بحث کا غالب حصہ اس پہلو پر ہے کہ طلباء و طالبات کس طرح سے ننانوے فیصد نمبر لینے پر پہنچے ہوئے ہیں اور مزید یہ کہ اتنے زیادہ نمبر لینے کے باوجود ان طلباء و طالبات کو ان مضامین جن میں یہ نمبر حاصل کیے ہیں کا کوئی فہم یا ادراک تک نہیں ہے

احباب اس بات پر بھی دل کے پھپھولے پھوڑ رہے ہیں کہ "ہمارے زمانے" میں تو 
کسی کے ساڑھے آٹھ سو میں سے سات سو نمبر آ جاتے تھے تو بورڈ میں پوزیشن آ جاتی تھی . محلے و شہر میں شور مچ جاتا تھا اور خاندان میں واہ واہ ہو جاتی تھی اور اب تو ہر دوسرا بچہ /بچی گیارہ سو میں سے ١٠٥٠ نمبر لئے بیٹھا ہوتا ہے

بحث اس بات پر بھی جاری ہے کہ نا صرف مسئلہ میٹرک یا ایف اس سی میں منوں کے حساب سے نمبر حاصل کرنے پر ہے بلکہ گریجویٹ اور ماسٹر ڈگری حاصل کرنے والے طالب علم بھی انگریزی میں ڈھنگ کی چار سطریں تک نہیں لکھ سکتے اور اپنے متعلقہ مضمون میں انکا علم بھی بس واجبی سا ہی ہوتا ہے اور زندگی کے کسی بھی معاملے میں انکی سوچ علم فہم و ذہنیت میں کسی قسم کی کوئی گہرائی نہیں پائی جاتی

ان تمام کمیوں کوتاہیوں مسائل کو اجاگر کرنے بارے ہر شخص کی اپنی رائے ہے، کوئی تعلیمی نصاب کو اسکا قصوروار ٹھہراتا ہے ، کوئی اساتذہ کو ، کوئی والدین کو کہ بچے کی افتاد طبع کی بجائے اپنی مرضی ٹھونستے ہیں، کوئی تعلیمی پالیسی بنانے والوں کو، کوئی معاشرے میں موجود شدت پسندی اور مذہبی رہنماؤں کو اور کسی اور کو کچھ اور نہیں سوجھتا تو اسکی تان بالاخر ضیاء الحق پر جا ٹوٹتی ہے

اس ساری بحث میں جو سب سے اہم بات یعنی ان تمام مسائل کی اصل وجہ کیا ہے اور ان کا کیا حل ہوسکتا ہے یا ہونا چاہئے بالکل ہی غائب ہے

میرا اس مضمون لکھنے کا مقصد ہی صرف یہ ہے کہ تعلیمی نظام کے مسائل کے حل کی طرف توجہ کی جائے اور ہر شخص اس معاملے میں اپنا اپنا حل پیش کرے اور پھر اس پر ایک قومی بحث شروع ہو اور تمام پیش کردہ حلوں میں سے بہترین حل چن کر انکا نفاذ کیا جائے تاکہ ہم ہر سال کے امتحان کے نتائج کے موسم میں آئے اس باسی کڑھی کے ابال سے محفوظ رہیں

پاکستان اور برطانیہ میں تعلیمی نظام سے مستفید ہونے کے ذاتی تجربہ کی بنا پر میری یہ گزارشات ہیں

میٹرک اور ایف اس سی میں مضامین کو ایک خاص بندش میں ہی پڑھنے اور امتحان دینے پر پابندی کو فورا ختم کیا جائے ، یعنی صرف آرٹس اور سائنس کی تقسیم پر مشتمل مضامین کے مرکب یعنی کومبینیشن کی بندش کا خاتمہ. تعلیم کو صرف دو خانوں یعنی آرٹس و سائنس میں تقسیم کرکے ہم نے تعلیمی اچھوت پن پیدا کیا ہوا ہے اور مزید یہ کہ اگر کوئی طالب علم کسی سائنسی مضمون کو کسی آرٹس (ہیومینیٹیز) کے مضمون کے ساتھ پڑھنا چاہتا ہے تو اسے اس انتخاب کا حق ہی نہیں دیا جاتا. ایف اس سی میں میری اپنی خواہش یہ تھی کہ میں میتھیمیٹکس کے مضمون کے ساتھ فلسفہ اور سیاسیات پڑھ سکوں لیکن یہ حق انتخاب نہ آج سے تیس سال پہلے تھا اور نہ ہی آج کسی طالبعلم کو میسر ہے

مضامین کو میٹرک اور ایف اس سی میں صرف سائنس اور آرٹس کے غیر لچکدار مرکب میں تقسیم کرنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ ایک تعلیمی اچھوت پن پیدا ہوگیا ہے جس میں سائنس پڑھنا تعلیمی برہمنیت اور ہیومنیٹیز کے مضامین کی تعلیم، تعلیمی شودرپن خیال کیا جانے لگا ہے، اس پر مزید یہ کام کیا گیا ہے کہ سائنس کے مضامین والوں کو تو آرٹس کی کسی بھی ڈگری پروگرام میں داخلے کا موقع فراہم کردیا گیا جبکہ ہیومنیٹیز والوں کو سائنس کی ڈگری میں داخلے کا کوئی موقع میسر نہیں

ایف اس سی میں صرف تین مضامین کو بنیادی قرار دیا جائے اور کسی بھی ڈگری پروگرام میں داخلہ کیلئے کم از کم دو متعلقہ بنیادی مضامین کی شرط لگا دی جائے اور صرف انہی متعلقہ مضامین میں اعلیٰ نمبر داخلے کی بنیادی شرط ہوں مثال کے طور پر اگر آپ نے قانون کی ڈگری حاصل کرنی ہے تو اسکے لئے انگریزی زبان ، فلسفہ ، سیاسیات ، سماجیات ، نفسیات، انگریزی ادب، اردو ادب وغیرہ میں سے کوئی بھی دو بنیادی مضامین کا ہونا ضروری ہو

امتحانات میں بجائے نمبر دینے کے صرف گریڈ دئیے جائیں اور گریڈز کے بینڈ بنا دئیے جائیں، یعنی ٩٠ فیصد سے اوپر اے پلس ، پچاسی سے ٩٠ فیصد کے درمیان نمبر، اے گریڈ، اسی سے پچاسی فیصد کے درمیان ، بی پلس گریڈ، پچھتر سے اسی فیصد کے درمیان بی گریڈ، ستر سے پچھتر فیصد کے درمیان سی پلس گریڈ، پیسنٹھ سے ستر فیصد کے درمیان سی گریڈ  وغیرہ وغیرہ ، یہ سب گریڈنگ کا نظام مضمون میں حاصل کردہ نمبر پر ہی ہو اور بورڈ میں پوزیشن ہولڈر والی ڈرامہ بازی ختم کی جائے
   

Monday, June 18, 2018

نوکری نہ ملنے کی مظلومیت اور خود ترسی


ہمارے سماج میں لڑکیوں کے اچھے رشنے نہ ملنے کے ساتھ ساتھ اسی شدومد سے کیا جانے والا دوسرا سیاپا نوکری اور خاص طور پر سرکاری نوکری کے نہ ملنے کا کیا جاتا ہے
اکثر نوجوان ،اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں ، عام تعلیم یافتہ ہوں یا نیم خواندہ ہوں ، سب کا یہی رونا ہوتا ہے کہ تعلیم و مہارت حاصل کیے اتنے سال ہوگئے ہیں ، کوئی ڈھنگ کی نوکری نہیں مل رہی ، عمر گزر رہی ہے ، ٹیلنٹ ضائع ہورہا ہے ، سخت پریشانی اور ٹینشن میں رہتے ہیں ، والدین کی امیدوں پر پورے نہیں اتر پا رہے ، وغیرہ وغیرہ 
ان سب مسائل کے بارے میں گفتگو کرنے کا ایک عام سطحی انداز اور سطحی حل تو یہ ہے کہ اس سب صورتحال کا حکومت وقت یا نظام کو قصوروار ٹھہرا دیا جائے، حکومت اور حکومتی اہلکاروں و منتخب نمائندوں کو کوسنے دئیے جائیں ، اور حکومت سے مزید سرکاری نوکریاں پیدا کرنے کے مطالبات کیے جائیں اور منتخب نمائندوں کی سفارشیں ڈھونڈی جائیں یا رشوت دیکر نوکری حاصل کرنے کی کوشش کی جائے 
یہ حل نہایت سادہ اور فرد کی اپنی نالائقی ، سستی ، انانیت اور خود ترسی کیلئے بہت پرکشش اور ذمہ داری سے فرار کا آسان راستہ فراہم کرتا ہے اور اسی لئے متاثرہ فرد اسی میں مشغول رہتا ہے اور اپنی مظلومیت اور خود ترسی کے خول سے کبھی بھی باہر نہیں آتا
اگر واقعی میں ہم اس مسئلہ کو حل کرنا چاہتے ہیں اور ایک مستقل اور پائیدار حل چاہتے ہیں تو ہمیں اس سطحی سوچ اور سطحی حل کی دنیا سے باہر آکر سوچ بچار کرنی ہوگی، سارے مسئلے اور معاملے پر گہرا غوروفکر کرنا ہوگا 

بیروزگاری یا نوکری نہ ملنا، اسکی کئی معاشی ، سماجی ، سیاسی اور  نظریاتی جہتیں یعنی سمتیں ہیں ، اس مضمون میں ان سب کا احاطہ تو ہرگز ممکن نہیں لیکن پھر بھی کچھ کوشش ہوگی کہ ان جہتوں کی بات کی جائے جن پر جانتے بوجھتے یا نہ جانتے ہوئے بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے

سب سے پہلی اور اہم ترین جہت تو یہ ہے کہ ہم نے کولونیل ازم کے تحت زندگی گزارنے کے دوران اپنی سوچ اور ذہنیت صرف اور صرف ایک نوکری پیشہ فرد یا قوم کی بنا لی ہے ، ہم نے اپنا نظام تعلیم جو آنے والی نسلوں کی تیاری، مستقبل کی سائنسی و ٹیکنالوجیکل ترقی ،نت نئی ایجادات و کاروبار،  معاشی و اقتصادی بڑھوتری و خوشحالی اور ایک مضبوط اور ہم آہنگ قوم کی ضمانت اور بنیاد ہوتا ہے ، اسکو صرف اور صرف نوکری پیشہ افراد کو پیدا کرنے والی ایک گھٹیا اور بھدی مشین تک محدود کر دیا ہے 

ہم نے اپنا نظام تعلیم اور اس میں طالبعلموں کی ذہنیت کو اس حد تک پست کردیا ہے کہ ہمارے بہترین اذہان کی معراج تعلیم مکمل کرنے کے بعد صرف اور صرف نوکری پیشہ ہونا ہوتا ہے ، آپ ملک کے بہترین میڈیکل کے اداروں، انجنیئرنگ کے اداروں یا آئی ٹی کے اداروں میں تعلیم حاصل کرتے نوجوانوں سے یہ سوال پوچھ لیں کہ وہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد کیا کریں گے تو ٩٩ فیصد کا جواب آپکو یہ ملے گا کہ وہ نوکری ڈھونڈیں گے ، آپکو ان میں سے شاید ہی کوئی طالبعلم ملے جو یہ کہے کہ وہ اپنا کاروبار شروع کرے گا ، وہ کوئی نئی ایجاد پر کام کرے گا ، وہ کوئی نئی دوائی بنانے کی کوشش کرے گا ، وہ انٹرپرینیور بنے گا ، وہ کاروبار یا کسی نئے معاشی یا اقتصادی ماڈل پر کام کرے گا ، وہ ملک میں کسی نئی پراڈکٹ کو لانچ کرے گا یا مارکیٹ میں موجود کسی گیپ کا فائدہ اٹھا کر کوئی نئے تجارتی مواقع پیدا کرے گا 
مرے پر سو درے، نظام تعلیم ایک انتہائی پست اور گھٹیا قسم کا احساس تکبر یا نخوت بھی پیدا کرتا ہے جس میں نوکری کرنا کسی کاروبار کرنے سے سماجی طور پر اچھا سمجھا جاتا ہے اور کسی کاروبار کو اسکے معاشی و اقتصادی فوائد کی بجائے اسکے صدیوں پرانے فرسودہ و گھٹیا سماجی پیمانوں سے ماپنے کی کوشش کی جاتی ہے ، نا صرف یہ بلکہ بیکار یا بیروزگار پھرنا کسی کاروبار کرنے سے بہتر سمجھا جاتا ہے اور اس طرح کے فقرے عام سننے کو ملتے ہیں کہ ماسٹر کرنے کے بعد کیا میں یہ کام کروں وغیرہ وغیرہ
نظام تعلیم سے ہی جڑا ایک اور پہلو جس پر ہم غور کرنے کا تکلف نہیں کرتے وہ تعلیم میں تخصیص یعنی سپیشلائزیشن کی بجائے تعلیم کی عمومیت یعنی جنریلٹی ہے ، ہمارا نظام تعلیم تھوک کے حساب سے ان مضامین کی تعلیم دیتا ہے جنکا عام زندگی میں کسی خاص مہارت یا تحقیق سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا اور کئی صورتوں میں تو سائنس کے مضامین کی تعلیم بھی ایسے دی جاتی ہے کہ اس سے طالبعلموں کو کوئی خاص مہارت  یا  تحقیقی سوچ نہیں ملتی ، حالات اس حد تک بگڑے ہوئے ہیں کہ کسی زبان میں ماسٹر کرنے کا مطلب اس زبان کے چند شعراء یا ادیبوں کی تحریوں سے واقفیت یا ان پر تنقیدی مضامین لکھ مارنے کی قابلیت حاصل کرنا ہے نہ کہ زبان کی ساخت ، اس میں تاریخی و سماجی تبدیلیوں کا علم ، الفاظ کا نت نیا استعمال و بڑھاؤ ، انسانی ذہن و شعور کی بڑھوتری میں زبان کا کردار ، سیاسی ، سماجی ، مذہبی ، سیکولر ، لبرل و الحادی نظریات کے وجود اور بڑھوتری میں زبان کا کردار ، کسی خاص تحریر یا تقریر کے معاشرے کی کایا پلٹ دینے کی اہمیت وغیرہ وغیرہ 
سائنسی و غیر سائنسی عمومی تعلیم حاصل کردہ نوجوانوں کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ اگر انکو براہ راست ڈپٹی کمشنر نہیں لگا سکتے تو انہیں کم از کم کسی سکول یا کالج میں استاد کی نوکری ضرور دی جائے . یہ ایک ایسا مضحکہ خیز اور آنے والی نسلوں پر ظلم کا مطالبہ ہے کہ خدا کی پناہ . کسی مضمون میں محض ماسٹر ڈگری کا حصول ، استاد بننے کا لائسنس نہیں ہے، استاد بننے کیلئے کسی شخص میں تعلیم سے شدید شغف، نفسیاتی و جذباتی توازن، تعلیم دینے کی صلاحیت، صبر، تحمل، طالب علم کے پوٹینشل کو جاننے کی صلاحیت اور کسی بھی معاملے میں اسکی تعلیمی ضروریات کو مقدم دینے کی ضرورت سے واقفیت اشد ضروری ہوتی ہے ، نظام تعلیم سے وابستہ ہمارے کتنے اساتذہ ان سب سے واقف ہیں ، نظام تعلیم کے پیدا کردہ نوجوانوں سے آپ اسکا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں

ہمارے لوگ امریکی یورپی جاپانی چینی، کامیاب لوگوں کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے اور انکا تقابل کرتے اپنے آپکو پیٹتے اور کوستے رہتے ہیں  لیکن کیا ہم نے کبھی غور کیا، کبھی سوچا ، کبھی تحقیق کی کہ ان میں کتنے لوگ ہیں جو نوکری پیشہ تھے یا ہیں، کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی کاروباری سلطنت کا آغاز ایک معمولی سی دوکان یا ٹھیلے سے کیا یا اپنے کاروبار کا آغاز لوگوں کے گھر گھر پھر کر کیا 
اگر ترکی جیسے ملک میں کوئی کاروباری شخص ، لسی کی مارکٹنگ کرکے اسکو عالمی سطح پر ایکسپورٹ کرسکتا ہے تو ہم میں سے کسی کو یہ خیال کیوں نہ آسکا کی وجہ صرف یہی ہے کہ ہم نے اپنے آپکو محض نوکری پیشہ ہونے تک محدود کیا ہوا ہے

اسلئے سب سے پہلے تو تعلیم کیلئے درست مضامین کا انتخاب کیجئے اور ان مضامین میں امتیاز، فضیلت اور مہارت حاصل کریں اور اسکے بعد نوکری نہ ملنے کی خود ساختہ مظلومیت و خود ترسی کے شکنجے و خول سے باہر نکلیں ، اپنی ذہنیت و سوچ کو نوکری پیشہ ہونے سے بلند کریں ، ، تعلیم کو نوکری کا زینہ سمجھنے کی بجائے اسکو شعور و ذہنی استعداد و مہارت میں اضافے کا ذریعہ سمجھتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو چھوٹے موٹے کاروبار کی طرف منتقل کریں، اس میں محنت و معیار کو شامل کریں اور آپ خود دیکھیں گے کہ چند سال بعد آپ لوگوں کو نوکری دینے والے ہونگے نہ کہ نوکری ڈھونڈنے والے 

Tuesday, October 3, 2017

گڈی کچے تے لاہ لوؤ ، میاں صاحب


عمرعزیز کا آدھے سے زیادہ حصہ بیرون ملک گزارنے کے بعد تین مہینے پہلے پاکستان مستقل واپسی اختیار کرلی، جب ملک سے باہر گیا تو بطور طالبعلم اینی اوائل جوانی میں گیا تھا اور اب سر میں چاندی اترنا شروع ہو گئی ہے، یورپ میں اتنا عرصہ رہ کر زیادہ تر عادتیں اور رویے یورپ والے ہوگئے ہیں جن میں خاص طور پر ڈرائیونگ کا انداز، رویہ اور عادت پختہ ہو چکی ہے ، یہ کوئی بری عادت یا رویہ نہیں ہے بلکہ ٹریفک قوانین کی پاسداری ، باحفاظت ڈرائیونگ ، اپنے گرد و پیش پر نظر اور اسکے ساتھ ساتھ سڑک پر اپنے اور دوسرے ڈرائیور کے حقوق و فرائض بارے آگاہی اور اس پر اصرار بھی ہے
ہر دو چار سال بعد پاکستان کا چکر لگتا تھا تو میرے لئے گاڑی چلانا کافی ناخوشگوار تجربہ ہوا کرتا تھا اور اسلئے یا تو کسی مقامی ڈرائیور کی خدمات حاصل کرلیتا تھا یا میرا چھوٹا بھائی گاڑی چلاتا تھا ، ویسے بھی پاکستان میں قیام دو تین ہفتوں کا ہوتا تھا تو کم ہی ادھر ادھر کا سفر ہوتا تھا اور ملنے ملانے میں ہی چھٹیاں ختم ہوجاتی تھیں اور واپس بیرون ملک چلے جاتے تھے    
اس بار چونکہ پاکستان مستقل واپسی کرلی تھی اور پاکستان آئے ایک مہینہ ہو چلا تھا اور مجھے اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ ضلع جھنگ میں اپنے فارم پر جانا تھا ، عموما گاڑی چھوٹا بھائی چلاتا ہے لیکن اس دن میں نے کہا کہ آج گاڑی میں چلاتا ہوں، نئے بنے فیصل آباد-گوجرہ موٹر وے کا چراغ آباد انٹر چینج لیکر فیصل آباد-جھنگ  روڈ پر گاڑی ڈال لی ،موٹر وے کا سفر تو میرے لئے پیس آف کیک والا معاملہ تھا لیکن جونہی فیصل آباد - جھنگ روڈ پر آیا یہاں رولز آف دا گیم ہی کچھ اور تھے اور ٹریفک و ڈرائیونگ کے کسی اصول ضابطے اور قانون والی بات نہ تھی  اس دوران کئی  گاڑیوں جن میں کاریں ، ہائی ایس وینز اور ایک دو بسیں بھی تھیں نے نہایت ہی بیہودہ اور خطرناک انداز میں مجھے دائیں اور بائیں دونوں طرف سے اوور ٹیک کیا ، وجہ یہ تھی کہ میرے آگے ایک دو گاڑیاں تھیں اور میں اپنی یورپی ڈرائیونگ عادت کے تحت محفوظ فاصلے اور باحفاظت اوور ٹیکنگ کیلئے صبر اور انتظار سے کام لے رہا تھا . میری اس عادت سے چھوٹا بھائی بھی کچھ بے چینی اور بیزاری کا شکار تھا . خیر میں اپنے تئیں غیرضروری اور جان لیوا رسک لینے کو ہرگز تیار نہ تھا 
ابھی چند منٹ مزید گزرے ہونگے کہ میں نے دیکھا کہ سامنے سے ایک ٹرک نہایت ہی خطرناک انداز میں دوسرے ٹرک کو اوورٹیک کرتا بالکل میرے سامنے آ رہا تھا ، اب میں اپنی یورپی ڈرائیونگ عادت کے تحت اس زعم میں ہوں کہ وہ مجھے سامنے آتا دیکھ کر رک جائے گا کہ راستہ تو ہے نہیں ورنہ سیدھا مجھ سے ٹکرائے گا ، لیکن ٹرک والے نے کسی قسم کی کوئی شرم حیا ، اصول  ضابطے قانون کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سیدھا میری طرف آنا جاری رکھا اور میں نے گاڑی کا ایک ٹائر کچے پر اتار کر بمشکل اپنی ، اپنے بھائی کی جان بچائی اور گاڑی کو حادثے سے بچایا 
میں نے گاڑی روک لی لیکن وہ ٹرک والا بغیر کسی بھی قسم کی پشیمانی یا شرم اور رکے بغیر، اوورٹیک کرکے سیدھا چلتا گیا ، میں اب ٹرک والے اور اسکے خاندان کی شان میں قصیدے پڑھ رہا تھا اور اس بات پر سخت پیچ تاب کھا رہا تھا کہ کیسا جاہل ، گھٹیا اور جانور نما انسان ہے جسے نہ اپنی اور نہ کسی اور کی جان مال کی پرواہ ہے اور جو اپنی لین چھوڑ کر زبردستی بغیر کسی اصول ضابطے اور حق کے میرے والی لین میں آ گھسا تھا اور مجھے سڑک سے اترنے اور رکنے پر مجبور کیا
میرا چھوٹا بھائی جو اب تک صبر سے سب کچھ برداشت کرتا آیا تھا ، پھٹ پڑا اور کہنے لگا کہ جناب یہ پاکستان ہے یہاں یورپ والی ڈرائیونگ اور اصول ضابطے اور حقوق نہیں چلتے یہاں پاکستان کے اصول ضابطے و رویے چلتے ہیں اور ہاں آپ نے ٹرک کو سامنے آتے دیکھ کر خود گاڑی کچے پر کیوں نہ اتار لی تاکہ ٹرک والے سے کسی تصادم کا خطرہ ہی نہ ہوتا اور ہم اسکو راستہ دیکر خود محفوظ رہتے اور اتنی ٹینشن بھی نہ رہتی ، دوسرے الفاظ میں ، سامنے توں  بدمست جاہل ٹرک ڈرائیور نوں ویکھ کے آپے گڈی کچے تے لاہ لئی دی جے تے موقع ولاہ جائی دا جے 
میاں صاحب دی موجودہ صورتحال نوں ویکھ کہ ایہہ واقعہ یاد آگیا تے میاں صاحب لئی مخلصانہ مشورہ ایہو جے کہ میاں صاحب ، گڈی کچے تے لاہ لوؤ ورنہ بچنا ککھ نئیں جے              

Friday, August 18, 2017

تعلیمی اچھوت پن



آپ میں سے اکثر نے یہ داستان پڑھی یا سنی ہوگی کہ پرانے وقتوں میں اگر کوئی شودر، ہندوؤں کی مذہبی کتاب کہیں پڑھی جارہی ہوتی اور وہ سن لیتا تھا تو اسکے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیتے تھے 
اس داستان کی اصلیت بارے تو یہی کہوں گا کہ شاید کوئی اکا دکا واقعہ ہوا ہو تو ہو ورنہ ہمارے لوگوں کی ہندوؤں کو بدنام کرنے کی داستانیں ہیں 
میرا اصل موضوع ہندو مذھب یا اس بارے من گھڑت داستانیں نہیں ہے ، اصل موضوع کچھ اور ہے ، اس داستان بارے جب بھی میں نے غور کیا تو مجھے اس میں صرف ایک ہی پہلو نظر آیا کہ طاقتور طبقات خاص طور پر برہمن نہیں چاہتے تھے کہ کمزور اور پسے ہوئے طبقات کسی قسم کی تعلیم اور چاہے وہ مذہبی ہی کیوں نہ ہو ، تک رسائی حاصل کریں، انکو اصل خطرہ یہ تھا کہ علم حاصل کرکے کمزور اور پسماندہ طبقات کہیں انکو چیلنج نہ کریں اور انکی برتری اور اختیار ختم نہ ہوجائے 
اگر ہم پاکستان میں موجودہ تعلیم اور خاص طور پر اعلیٰ تعلیم کی صورتحال کو دیکھیں تو اج بھی یہی صورتحال ہے ، اس جدید زمانے میں غریب، پسماندہ اور کمزور طبقات کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ تو نہیں ڈالا جاتا البتہ انکی نسلوں کو تعلیم کی روشنی سے دور رکھنے کا پورا پورا بندوبست ہے 
کہنے کو تو کسی بھی قسم کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے پر کوئی سماجی ، مذہبی ، قانونی یا آئینی پابندی نہیں ہے اور آپ امیر ہوں یا غریب ، طاقتور ہوں یا کمزور ، آپ کسی بھی تعلیم کو بظاہر اپنی محنت و صلاحیت کی بنا پر حاصل کر سکتے ہیں اور معاشرے میں پھیلا تصور بھی یہی ہے کہ اگر آپ اپنی مالی و سماجی حالت بہتر کرنا چاہتے ہیں اور  چاہتے ہیں کہ آپکی اگلی نسلیں ایک اچھے مستقبل کی حامل ہوں اور آپ صدیوں اور ازلوں کی سماجی ، معاشرتی اونچ نیچ اور ناانصافیوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو تعلیم ہی واحد راستہ ہے جس پر چل کر آپ یہ سب حاصل کر سکتے ہیں 
یہ خیال یا نظریہ کہ تعلیم اور اعلیٰ تعلیم آپکو سماجی و مالی ترقی عطا کرے گی نوے کی دھائی کے وسط یا اسکے اختتام تک تو شاید درست تھا لیکن پچھلے پندرہ بیس سال میں تعلیمی میدان میں ہوئی تبدیلیوں جس میں خاص طور پر نجی تعلیمی اداروں کا کھمبیوں کی طرح اگ آنا اور انکا فروغ ایک ایسی بد دعا کے طور پر آیا ہے کہ غریب اور کمزور طبقات ایک بار پھر سے تعلیمی اچھوت پن کا شکار ہوگئے ہیں 
شروع شروع میں تو سرکاری کالج اور یونیورسٹیاں، پھر بھی غریب اور کمزور طبقات کے لوگوں کی مالی دسترس میں تھیں کہ انکے تعلیمی اخراجات کسی نہ کسی طور پورے ہوجاتے تھے اور غریب ، پسماندہ اور کمزور طبقات کیلئے تعلیم کے ذریعہ اپنی سماجی و مالی حالت کے سدھار کی امید و روشنی کی کرن باقی تھی . لیکن پچھلے دس سال سے یہ امید کی کرن بھی ایک بھیانک اور ڈراونے خواب میں بدل چکی ہے 
نجی یونیورسٹیوں کے لاکھوں روپے سال کے تعلیمی اخراجات کو تو چھوڑئیے کہ وہ تو غریب ، پسماندہ اور کمزور طبقات کی کبھی بھی دسترس میں نہ تھے ، سرکاری کالج اور خاص طور پر سرکاری یونیورسٹیوں کی ماہانہ تعلیمی فیس کم از کم سات آٹھ ہزار روپے ہیں ، ذرا تصور کیجئے کہ ایک ریڑھی لگانے والے ، کسی دوکان پر لگے سیلز مین ، کسی بینک میں کھڑے گارڈ ، کسی روزانہ دیہاڑی پر لگے مزدور ، جن کی کل ماہانہ تنخواہ پندرہ سے بیس ہزار روپیہ ہوتی ہے کو اپنے دو تین بچے یونیورسٹی پڑھانا پڑھ جائیں تو وہ کیسے پڑھائے اور کیسے اپنا گزارا کرے 
لوگ یہ استدلال لیکر آ جاتے ہیں کہ بچے سکالر شپ حاصل کرلیں  تو بھائی میرے ، ہر بچہ سکالر شپ نہیں لے سکتا اور اسکے علاوہ کیا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا صرف امیر اور سکالر شپ حاصل کرنے والے کا حق ہے ، کیا ایک اوسط ذہن اور اہلیت والے بچے /بچی کا کوئی حق نہیں کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکے 
اصل بات یہی ہے کہ ہماری اشرافیہ جس کے بچے تو مہنگے نجی تعلیمی اداروں یا بیرون ملک کی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں نہیں چاہتی کہ پسماندہ ، غریب اور کمزور طبقات کے لوگ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنی سماجی و مالی حالت بہتر کرسکیں اور انکے اقتدار ، اختیار اور برتری کیلئے کسی قسم کا خطرہ بن سکیں. ایک طرف تو یہ نعرے اور بڑکیں کہ تعلیم سب کا حق ہے اور سب کو سستی اور قابل دسترس تعلیم دینا ہماری پالیسی ہے ،سرکاری اعلیٰ تعلیمی اداروں میں انکے اخراجات کے نام پر فیسوں کا بڑھانا کہ وہ پسماندہ طبقات کی دسترس سے باہر ہوجائیں بھی اشرافیہ کی چال ہے کہ عام عوام تعلیمی اچھوت ہی رہیں اور کبھی انکی برابری نہ کر پائیں
تو جناب سب اس بات کی آواز اٹھائیں کہ اعلیٰ سرکاری تعلیمی اداروں خاص طور پر یونیورسٹیوں میں ماہانہ فیس زیادہ سے زیادہ ایک ہزار روپیہ ہو اور اس تعلیمی 
اچھوت پن کو فوری ختم کیا جائے
شاہ برہمن  
              

Monday, May 22, 2017

سیاسی جماعتوں کی سوشل میڈیا ٹیم حکمت عملی

جس طرح چار  یا   پانچ پرتوں والی سیکوریٹی ہوتی ہے اسی طرح پاکستانی سیاسی جماعتوں کی سوشل میڈیائی حکمت عملی ہوتی ہے صرف ایک چھوٹی
سی  مرکزی کور سوشل میڈیائی ٹیم ہوتی ہے جس کو اون کیا 
جاتا ہے ، اس کے گرد 

  *   ترکش جانثار
* رضا کار 
* پرائی شادی میں بیگانے عبداللہ
 اور
محض تالیاں پیٹنے والے تماش بینوں کے جتھے ہوتےہیں

 یہ سارا تام جھام ، اپنی اصل سوشل میڈیائی ٹیم اور غلط کاریوں کو چھپانے کیلئے ہوتا ہے

اس سارے   نظام میں سب سے قابل رحم  تالیاں پیٹنے والے تماش بین اور عبداللہ بیگانے ہوتے ہیں جو محض نگاہ التفات کے بھوکے ہوتے ہیں اور جب کبھی کبھار مل جاتی ہے تو تالیاں پیٹ پیٹ کر اور ناچ ناچ کر اپنے آپ کو زخمی کر لیتے ہیں ، انکی نگاہ التفات کی بھیک مخالفوں پر خواہ مخواہ گالیاں بکنے اور بھونکنے کی مرہون منت ہوتی ہے

جہاں تک رضاکاروں کا تعلق ہے تو یہ اپنے آپ کو تھوڑا
 برتر اور نظریاتی سمجھتے ہیں اور اس بات پر فخر کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم یہ کام رضاکارانہ کرتے ہیں اور پیڈ کارکن نہیں ہیں المیہ یہ ہے کہ انہی میں سب سے بیہودہ اور گھٹیا  لوگ پائےجاتےہیں ،یہ مخالفوں کی ماں بہن بیٹی کی عزت تار تارکرنا اپنا خدائی حق اورنظریاتی فرض سمجھتے ہیں اور اسپر اپنا سینہ فخر سےپیٹتے ہیں انہی رضاکاروں میں کچھ سلجھے ہوئے ، کچھ نیم نظریاتی ، کچھ مبہم نظریاتی ، کچھ شخصی نظریاتی ، کچھ مخالف ضدی ، کچھ ذاتی پسند نظریاتی کچھ مفاداتی ، کچھ گروہی ، کچھ دوستی الغرض طیف یعنی سپیکٹرم کافی وسیع ہے ان میں گالیوں والے رضاکاروں کی کور سوشل میڈیائی ٹیم اور قیادت کی طرف سے پیٹھ ٹھونکی جاتی ہے اور انہیں ہلا شیری بھی دی جاتی ہے کہ مخالفوں پر چڑھ دوڑو چالاکی اور مکاری یہ ہے کہ جونہی انکی بیہودگی ، گالیوں ، بدزبانیوں کی وجہ سے نام نہاد نیک نامی پر حرف آتا ہے فورا کہہ دیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کا ہماری سوشل میڈیا ٹیم سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہم صرف اپنے سوشل میڈیا ٹیم کے کارکنان کے رویہ کے ذمہ دار ہیں ان رضا کاروں میں آپسی لڑائی جھگڑے اور پھڈےبھی اکثر ہوتے اور قیادت رومن اکھاڑے میں بیٹھے حکمرانوں کی طرح ان سے محظوظ بھی ہوتی ہے کہ چلو یہ لوگ کسی آرے تے لگے نیں ان رضاکاروں کو وقتا فوقتا قیادت ملنے کیلئے بھی بلا لیتی ہے ، وفاداری کے سرٹیفکیٹ بھی عطا کردیتی ہے ، فنکشنز میں بھی بلالیا جاتا ہے اور یہ اس پر ہی عقیدت سے ادھموئے ہو کر پہلے سے زیادہ بیہودگی والی زبان استعمال کرنے والے بن جاتے ہیں

اسکے بعد آتے ہیں ترکش جانثار،   یہ وہ لوگ ہیں جو اندھے
 حمایتی ہوتے ہیں اور ہر وقت اس نعرے کی عملی شکل ہوتے ہیں کہ فلاں تیرا اک اشارہ حاضر حاضر لہو ہمارا ان لوگوں کی زندگی صرف اور صرف اپنی قیادت کے ہر کام کی تعریف کرنا چاہے برا ہی کیوں نہ ہو اور مخالفوں کے ہر کام میں نقص نکالنا چاہے کتنا اچھا ہی نہ ہو ، ہوتا ہے یہ جانثار صرف جان دینا جانتے ہیں اور سوشل میڈیائی جنگ میں اگر کام بھی آ جائیں تو اسکو عین سعادت سمجھتے ہیں ان جانثاروں کو قیادت براہ راست تو نہیں لیکن کئی دوسرے طریقوں سے مفادات بہم پہنچاتی ہے اور یہ جانثاران کبھی کھل کر اسکا تذکرہ بھی نہیں کرتے ان جانثاران کی وجہ سے اگر قیادت پر کوئی حرف آتا ہے تو انکی قربانی بھی دےدی جاتی ہے انکی سر عام سرزنش بھی کردی جاتی ہے اور یہ برا بھی نہیں مناتےکہ انکی زندگی کا مقصد ہی جان نثاری ہوتا ہے

جانثار بھی چونکہ باقاعدہ کسی ٹیم کا حصہ نہیں ہوتے تو انکی
 سوشل میڈیائی حرکات کو بھی انکی ذاتی حرکت قرار دیکر ہاتھ دھو لئے جاتے ہیں

اب آتے ہے سوشل میڈیا اصلی ٹیم کی طرف ان میں بھی ایک
 سے زائد طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں کچھ پیڈ کارکن اور کچھ جماعتی وابستگی والے پیڈ کارکن تو وہ ہیں جنہیں جو ہدایات ملتی ہے وہ صرف انہی ہدایات کو فالو کرتے ہیں اور اسکے مطابق سوشل میڈیا کو متحرک کرتے ہیں

جو جماعتی وابستگی والے سوشل میڈیا ٹیم کے اراکین ہیں
 لیکن پیڈ نہیں ہیں وہ جماعتی پالیسی فالو کرتے ہیں لیکن سر عام اختلاف کا حق
انہیں بھی نہیں ملتا ، اگر کریں تو سرزنش یا سوشل میڈیا ٹیم 
سےبرطرفی تک نوبت  پہنچ جاتی ہے


جب پہلی چار پرتیں موجود ہوں تو کیا ضرورت بدنامی مول
 لینے کی